امجد صابری کے قتل کی تفتیش میں تمام زاویے مدنظر

پاکستان کے صوبے سندھ پولیس سربراہ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے امجد صابری کے قتل کی تفتیش کا رخ ابھی متعین نہیں کیا گیا اور اس واردات کا فرقہ واریت اور ذاتی رنجش سمیت تمام زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے ٹی وی پروگرام سیربین میں انٹرویو دیتے ہوئے اے ڈی خواجہ نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ امجد صابری کی جان کو خطرہ تھا اور اس بارے میں آگاہی رکھنے کے باوجود پولیس نے ان کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کیا۔
امجد صابری کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انسپیکٹر جنرل آف پولیس نے کہا کہ کسی بھی اہم معاملے کی تحقیقات میں اتنی جلدی کسی نتیجے پر پہنچا نہیں جا سکتا اور نہ ہی وہ پہنچنا چاہتے ہیں۔
جس وقت یہ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا اس وقت تک اس قتل کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی اور پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ امجد صابری کی تدفین کے بعد ان کے اہلخانہ سے بات چیت کی جائے گی اور پھر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ فرقہ واریت سے لے کر ذاتی دشمنی تک تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس اس واردات کی تفتیش کرے گی۔

امجد صابری کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات اور قیاس آرائیاں سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ قیاس آرائیاں بالکل بے بنیاد ہیں کہ امجد صابری کی جان کو خطرہ تھا اور پولیس کو اس بارے میں اطلاع تھی۔
انھوں نے کہا کہ پولیس سے نہ تو امجد صابری اور نہ ہی ان کے کسی رشتہ دار یا دوست نے اس بارے میں کبھی کوئی شکایت کی۔ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ یہ قطعی طور پر غلط ہے۔
کراچی میں تشدد اور جرائم کی وارداتوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پولیس چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک جنگ کا سامنا ہے اور گذشتہ دو سال سے پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضرب عضب کے نام سے پورے ملک میں کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس جنگ میں بیش بہا قربانیاں دے رہے اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ تشدد کی وارداتوں کو مکمل طور پر روکنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں وقت لگے گا اور یہ کام ایک رات میں نہیں ہو سکتا۔
کراچی میں جرائم کی وراداتوں کے بارے میں انھوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ اس میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اعداد و شمار دیکھیں جائیں تو اس میں گذشتہ سال کی نسبت بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔







