کسٹم افسر کا مقدمۂ قتل، ایان علی سے تفتیش کی درخواست

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
غیرقانونی کرنسی کی سمگلنگ کے مقدمے کے مقتول گواہ کسٹم افسر اعجاز چوہدری کی بیوہ نے اس مقدمے کی ملزمہ ایان علی کو اپنے خاوند کے قتل کے مقدمے میں بھی شامل تفتیش کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
ایان علی نے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے اپنا نام ای سی ایل سے نکالنے کے احکامات دیے جانے کے بعد ملک سے باہر جانے کی کوشش کی تھی تاہم کراچی ایئرپورٹ پر حکام نے انھیں وفاق سے اجازت ملنے تک بیرونِ ملک جانے سے منع کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت کی درخواست پر ایان کا نام دوبارہ ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔
کسٹم ڈائریکٹریٹ کے مطابق ایان علی سے جب پانچ لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے تو ابتدائی طور پر جس لاکر میں یہ کرنسی رکھوائی گئی تھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری کسٹم افسر اعجاز چوہدری کی تھی۔
راولپنڈی کے رہائشی کسٹم افسر اعجاز چوہدری کو ڈکیتی میں مزاحمت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا، تاہم اس مقدمے میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔
مقتول افسر کی بیوہ عاصمہ چوہدری کے وکیل راجہ حسیب نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی پولیس نے اس مقدمے کے مدعی اور مقتول کسٹم افسر کے بھائی چوہدری ریاض کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت نہیں لیا جس کے بعد سے اب تک تفتیش نامکمل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ پولیس کے اس رویے کے خلاف راولپنڈی کی سیشن جج کی عدالت میں درخواست دی گئی اور عدالت کے حکم پر مقتول کی بیوہ اور اس مقدمے کے مدعی کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
راجہ حسیب کے مطابق اس بیان میں مقتول کی بیوہ اور مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کسٹم افسر اعجاز چوہدری کے قتل کا سب سے زیادہ فائدہ ماڈل ایان علی کو پہنچا ہے لہٰذا انھیں اس مقدمے میں شامل تفتیش کیا جائے۔
عدالت کی ہدایت پر مقتول کی بیوہ نے وزارت داخلہ کے حکام سے بھی ملاقات کی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ایان علی بیرون ملک چلی گئی تو ان کے خاوند کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو پائے گا۔
راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کے مدعی اور مقتول کی بیوہ کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر قانونی رائے لی جائے گی جس کے بعد ایان علی کو اس مقدمے میں شامل تفتیش کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کسٹم افسر اعجاز چوہدری کا ماڈل ایان علی سے غیر ملکی کرنسی برآمد کرنے کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول اعجاز چوہدری کا نام اس مقدمے کے چالان میں گواہ کے خانے میں محض اس لیے ڈالا گیا کیونکہ جب اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو ایئرپورٹ پر ایان علی سے غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی تھی تو اس رقم کو سرکاری لاکر میں رکھوایا گیا جس کی نگرانی کسٹم افسر اعجاز چوہدری کر رہے تھے۔
مقتول کی بیوہ کے وکیل راجہ حسیب کے مطابق کسٹم حکام نے اعجاز چوہدری کا نام گواہوں کی فہرست میں اُن کی وفات کے چار ماہ کے بعد عدالت میں پیش کیے گئے چالان میں شامل کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایان علی غیر ملکی کرنسی سمگل کرنے کے مقدمے میں ان دنوں ضمانت پر ہیں اور ان پر اس مقدمے میں فردجرم بھی عائد ہو چکی ہے۔







