ماڈل ایان علی ایک بار پھر ایئرپورٹ سے واپس

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکاروں نے ماڈل ایان علی کو بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے جس کے بعد اُنھیں ایئرپورٹ سے واپس گھر جانا پڑا۔
ایف آئی اے کے امیگریشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ماڈل ایان علی کراچی سے ایک غیر ملکی پرواز کے ذریعے دبئی جانے کے ائرپورٹ پہنچیں تو اُنھیں امیگریشن کے عملے نے بتایا کہ اُن کا نام دوبارہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں دوبارہ ڈال دیا گیا ہے اس لیے جب تک ان کا نام اس لسٹ پر موجود ہے اس وقت تک وہ ملک چھوڑ کر نہیں جاسکتیں۔
ماڈل ایان علی کے وکلا کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وہ امیگریشن حکام کے اس رویے کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ماڈال ایان علی کا نام فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی درخواست پر ای سی ایل میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایان علی کا نام اس لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔
اہلکار کے مطابق ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ایان علی نے اُن پر واجب الادا لاکھوں روپے کا انکم ٹیکس بھی نہیں لیا گیا جبکہ اس کے علاوہ کسٹم کی عدالت نے اُنھیں پانچ کروڑ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے جو اُنھوں نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔
ماڈل ایان علی کے خلاف پانچ لاکھ امریکی ڈالر بیرون ملک سمگل کرنے کا الزام ہے جس پر کسٹم کی عدالت نے نہ صرف اُن سے برآمد کیے پانچ لاکھ امریکی ڈالر ضبط کر لیے بلکہ اُنھیں پانچ کروڑ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔
ملزمہ ایان علی نے کسٹم عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے لیکن عدالت عالیہ نے اس فیصلے کو ابھی تک کالعدم قرار نہیں دیا۔
پاکستانی قوانین میں ایک مسافر بیرون ملک سفر کے دوران دس ہزار تک امریکی ڈالر اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایان علی اس مقدمے میں ان دنوں ضمانت پر ہیں جبکہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے ملزمہ پر فرد جرم پر عائد کرچکی ہے۔







