ماڈل ایان علی پر فرد جرم عائد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں کسٹم کی خصوصی عدالت نے ماڈل ایان علی پر غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرنے کے مقدمے میں اُن پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔
عدالت نے اس ضمن میں استغاثہ کو گواہوں کے بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آٹھ دسمبر کو طلب کر لیا ہے۔
کسٹم عدالت کے جج رانا آفتاب احمد خان نے اس مقدمے کی سماعت کی اور ملزمہ ایان علی کی موجودگی میں اُن پر غیر ملکی کرنسی سمگل کرنے کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی، تاہم ملزمہ نے صحت جرم سے انکار کیا۔
اس سے پہلے متعلقہ عدالت نے چھ نومبر کو ایان علی کی طرف سے اِس مقدمے میں بریت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد ملزمہ کے وکیل نے بریت کی درخواست کو لاہور ہائی کورٹ میں دائر کیا جو سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔
ملزمہ کے وکیل اور سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ اُن کی موکلہ کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے قوانین میں سقم موجود ہیں جن کو ہٹانے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہOther
سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ اُن کی موکلہ کی گرفتاری کے بعد اُن کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا جبکہ قانون کے تحت ایسا نہ کرنا کسی طور پر بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اُن کی موکلہ نے پلاٹ بیچا تھا جس کی رقم وہ اپنے بھائی کو دینا چاہتی تھیں۔
تاہم کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں ایسے شواہد نہیں ملے کہ ملزمہ نے یہ رقم پلاٹ فروخت کرکے حاصل کی تھی۔
ماڈل ایان علی کو اس سال مارچ کے مہینے میں اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کرلیا گیا تھا جب وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر دبئی لے کر جارہی تھیں۔
پاکستان کی تاریخ میں ایان علی پہلی خاتوں ملزمہ ہیں جو چار ماہ تک اس مقدمے میں جیل میں رہیں جبکہ کسٹم حکام کے مطابق اس سے پہلے دو خواتین کو گرفتار کیا گیا لیکن ان کی چند روز بعد ہی ضمانت ہو گئی تھی۔







