آیان علی کی جیل میں بی کلاس کی درخواست مسترد

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ماڈل آیان علی کو جیل میں بی کلاس دینے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ کسٹم ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے ملزمان کو جیل میں بی کلاس نہیں دی جاسکتی اور اس کا اطلاق فوجداری دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات پر ہوتا ہے۔
جیل قواعد کے مطابق ہر اس ملزم کو بی کلاس ملتی ہے جس کی تعلیم بی اے یا اس سے زیادہ ہوتی ہے اور اس کلاس میں ملزم کو ایک خدمت گذار یعنی مشقتی بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
سنیچر کے روز آیان علی کو سخت سکیورٹی کے حصار میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ملزمہ کو اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی وین میں کچہری کے احاطے میں لایا گیا بعدازاں پولیس کے بقول آیان علی کی درخواست پر انھیں کچہری کے احاطے سے کمرہ عدالت تک ایک نجی گاڑی میں لایا گیا۔
ملزمہ برقعے میں عدالت میں پیش ہوئیں اور جب تک وہ کمرہ عدالت میں موجود رہیں انھوں نے برقعہ نہیں اُتارا۔
عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ کیا انھیں جیل میں ملنے والی سہولتیں نامناسب ہیں جس کا انھوں نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ وہ جیل میں ملنے والی ان سہولتوں سے مطمئن ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آیان علی نے عدالت کو بتایا کہ وہ جیل میں صرف اپنے بھائی اور وکلا سے ملنا چاہتی ہیں جبکہ انھوں نے اپنے والد سے بھی ملنے سے انکار کردیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی پولیس کے مطابق ملزمہ کے والد راجہ حفیظ پر نامعلوم مسلح افراد نے سنیچر کو اس وقت فائرنگ بھی کی جب وہ گوجر خان سے آیان علی کے مقدمے کی سماعت کے لیے راولپنڈی آرہے تھے۔
پولیس کے مطابق ایک گولی ملزمہ کے والد کے کندھے کو چھو کر گزری ہے۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش ابھی جاری ہے اور ابھی تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ ملزمہ سے برآمد ہونے والی پانچ لاکھ ڈالر کی رقم آیان علی کی ہی ہے۔
واضح رہے کہ کسٹم حکام نے آیان علی کو 14 مارچ کو اُس وقت گرفتار کرلیا جب وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر لے کر دوبئی جارہی تھیں۔
عدالت نے ملزمہ کو 11 اپریل کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ ذرائع ابلاغ کی ایک خاصی تعداد آیان علی کے مقدمے کی سماعت کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھی۔
اُدھر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ملزمہ آیان علی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے لیے 31 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے اور تفتیشی افسر سے کہا ہے کہ وہ مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔







