غیر متعلقہ ادارے آیان سے تفتیش نہ کریں: عدالتی حکم

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے غیر متعلقہ اداروں کو پانچ لاکھ امریکی ڈالر دبئی سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والی پاکستانی ماڈل آیان علی سے تحقیقات کرنے سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ صرف وہی لوگ اس معاملے کی تحقیقات کریں جن کے دائرہ اختیار میں یہ تفتیش آتی ہے۔
عدالت نے یہ حکم ملزمہ کی درخواست پر دیا ہے جس میں اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ خفیہ اداروں سمیت بعض اداروں کے اہلکار اُن سے تفتیش کے لیے جیل کا رخ کر رہے ہیں لہٰذا اُنھیں ایسا کرنے سے روکا جائے۔
اُدھر اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی کسٹم کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ابھی تک اُن کے پاس ایسے شواہد نہیں آئے جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر کی کرنسی ملزمہ کی ملکیت ہے۔
اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس معاملے کی چھان بین کی ہے کہ آیا ملزمہ نے اس رقم کا ٹیکس بھی ادا کیا تھا لیکن اب تک کی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اہلکار کے مطابق آیان علی نے ڈبل اے کمپنی کے نام سے نیشنل ٹیکس نمبر تو حاصل کیا ہے لیکن اس میں پانچ لاکھ ڈالر پر ٹیکس دینے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
آیان علی نے اس رقم سے متعلق کچھ مزید ثبوت بھی فراہم کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے یہ رقم کراچی میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پانچ پلاٹوں کی فائلیں بیچ کر حاصل کی ہے۔
تفتیشی ٹیم نے اس ضمن میں ملک ممتاز نامی شخص کو 27 مارچ کوانکوائری کے لیے طلب کرلیا ہے جنھوں نے ملزمہ سے ان پلاٹوں کی فائل خریدی تھی۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
اہلکار کے مطابق اس سے پہلے ماڈل آیان علی نے تفتیشی ٹیم کو بیان دیا تھا کہ اُنھوں نے یہ رقم پانچ سو اشتہاروں میں حصہ لینے کے بعد حاصل کی ہے اور ہر کمرشل میں حصہ لینے پر اُنھیں دو لاکھ روپے ملتے تھے تاہم اس کا ریکارڈ بھی ابھی تک تفتیشی ٹیم کے ہاتھ نہیں لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ کسٹم حکام نے 14 مارچ کو پاکستانی ماڈل آیان علی کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ پانچ لاکھ امریکی ڈالر مبینہ طور پر دبئی سمگل کرر ہی تھیں کسٹم حکام نے اُن کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا ہے اور قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا پانچ سال سے لے کر 14 سال تک ہے۔
سپیشل جج سینٹرل نے ملزمہ آیان علی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے جس کے بعد اُنھوں نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت اگلے ماہ ہو گی۔ ملزمہ کو 28 مارچ کو دوبارہ سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
اُدھر ملزمہ آیان علی نے اڈیالہ جیل میں بی کلاس حاصل کرنے کے لیے جیل حکام کو درخواست دی ہے تاہم جیل حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملزم کو بی کلاس دینے کا اختیار ہوم سیکریٹری کے پاس ہوتا ہے۔
اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق ملزمہ نے اس ضمن میں اپنی بی اے کی ڈگری بھی پیش کی ہے۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی ملزم کی تعلیمی قابلیت بی اے یا اس سے زیادہ ہو تو اُسے جیل میں بی کلاس دی جاتی ہے جس میں ملزم کی خدمت کے لیے ایک مشقتی بھی دیا جاتا ہے۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو جیل میں غیر معمولی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔
حکام کے مطابق ملزمہ کو خواتین کی عام بیرک میں منتقل کردیا گیا ہے اور جیل کے قواعد کے مطابق اُن کی ہفتے میں دو مرتبہ اُن کے رشتہ داروں سے ملاقات کروائی جاتی ہے۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ آیان علی نے چند روز قبل اپنے والد سے بھی ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔







