منی لانڈرنگ قوانین میں سقم ’دور کریں گے‘

پاکستان کے وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ ’اینٹی منی لانڈرنگ قوانین‘ میں سقم موجود ہیں اور حکومت ان میں وسیع پیمانے پر ترامیم کرنا چاہتی ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کی طرف سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
کانفرنس کے انعقاد کا مقصد منی لانڈرنگ کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر ہونے والے اثرات کو اجاگر کرنا اور اس بارے میں آگہی پیدا کرنا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ابھی تک کسی کالعدم جماعت سے منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت کوئی رقم پکڑی نہیں جاسکی کیونکہ قوانین کمزور ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اینٹی منی لانڈرنگ‘ قانون میں ترمیم اور’اکنامک کرائم‘ کی روک تھام کے لیے حکومت جامع قانون سازی کے لیے آئندہ ماہ ایک اہم کانفرنس بلا رہی ہے جس میں سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
وزیر قانون نے کہا کہ حکومت منی لانڈرنگ کے خلاف جامع قانون سازی چاہتی ہے تاکہ مدارس، فلاحی تنظیموں اورمذہبی جماعتوں کی بیرونی فنڈنگ کا حساب کتاب رکھا جاسکے۔
کانفرنس سے سٹیٹ بینک اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام اور بعض قانونی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کہ حکومت منی لانڈرنگ اور بالخصوص کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ کو روکنے کے لیے فوری قانون سازی کرے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔



