قبائلی ملک کی گاڑی پر حملہ، دو ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمندایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف قبائلی لشکر کے ایک اہلکار کی گاڑی پر ہونے والے بم حملےمیں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔
پولیٹکل ایجنٹ مہمند ایجنسی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ منگل کی صبح تحصیل صافی کے علاقے زیارت کلی میں ہوا۔ بیان کے مطابق حکومتی حامی قبائلی لشکر کے رہنما ملک ایاز اپنے محافظوں سمیت جارہے تھے کہ اس دوران ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری اہلکاروں کے مطابق دھماکے میں دو محافظ ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
ادھر اس حملے کی ذ مہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار نے قبول کرلی ہے۔
مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے چار مکانات کو مسمار کردیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کاروائی تحصیل حلیم زئی کے علاقے میاں منڈی میں کی گئی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کاروائی کے دوران پولیٹکل انتظامیہ اور حلیم زئی قبیلے کے مشران بھی موجود تھے۔
مہمند ایجنسی میں گذشتہ تقریباً دو ماہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایجنسی بھر میں سکیورٹی فورسز اور قبائلی مشران پر تواتر سے جاری شدت پسند حملوں سے علاقے میں خوف کی فضا ایک مرتبہ پھر سے بڑھتی جارہی ہے۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان حملوں کے باعث کئی علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی بھی ہے۔
مہمند ایجنسی میں تین دن پہلے تمام قبیلوں کے ایک جرگے میں مقامی انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر قبائل نے اجتماعی ذمہ داری کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو علاقے میں پھر سے آپریشن کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
علاقے میں کچھ عرصہ سے غیر اعلانیہ طورپر رات کا کرفیو بھی نافذ ہے جبکہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔







