پاکستان کا آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج شام

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنا چوتھا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہی ہے۔
بجٹ کا خصوصی پارلیمانی اجلاس جمعے کی شام مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے شروع ہوگا جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار 48 کھرب روپے پر مشتمل آئندہ مالی سال کی تجاویز ایوان کے سامنے رکھیں گے۔
حکام کے مطابق نئے بجٹ میں توانائی، انفراسٹرکچر اور پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
خیال رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2016-2017 کے لیے 1675 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جا چکی ہے۔
توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ زراعت کے شعبے میں آنے والی تنزلی کو روکنے کے لیے چند خصوصی رعایات بھی تجویز کی جائیں گی۔
بجٹ میں دو ارب روپے کی رقم زراعت کے لیے مختص کیے جانے کا امکان ہے جب کہ دفاعی بجٹ میں بھی اضافے کی توقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
توقع ہے کہ وفاقی حکومت نئے بجٹ میں 1675 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کرے گی۔ اس میں سے تقریبا آدھی یعنی 875 ارب روپے صوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کے رہنماؤں نے بجٹ سے قبل ہی کہنا شروع کر دیا ہے کہ بجٹ عوام دوست نہیں ہوگا اور ملک میں مہنگائی کا طوفان ثابت ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پیپلز پارٹی کے رہنما سلیم مانڈوی والا کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ حکومت کو معاشی ترقی کے اعداد و شمار پیش کر کے خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومتی پالیسی میں عوامی خوشحالی اور ترقی کا ایجنڈا شامل نہیں ہے۔‘
سلیم مانڈوی والا نے جو خود بھی سابق حکومت میں اس مسئلے پر کوئی خاص کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے کہا کہ حکومت کے پاس امیر اور مالدار طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
’جرمانے لگانے سے ٹیکس گزاروں میں ایف بی آر کا خوف بڑھے گا۔ لوگ ایف بی آر کے نزدیک آنا چھوڑ دیں گے۔‘
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کو شکایت ہے کہ چھوٹے صوبوں کو کم فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں فنڈز کی مجوزہ تقسیم وفاق کی روح کے خلاف ہے۔
’اس بجٹ میں ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس کی ادائیگی اور وصولی والے صوبے کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ سندھ نے سیلز ٹیکس میں سب سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے لیکن اس کے لیے مختص بجٹ غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔‘
ادھر خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو بھی مرکز سے کم فنڈز ملنے کی شکایت سامنے آ چکی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اپنی تجویز میں حکومت سے بلدیاتی اداروں کی سفارشات کو بھی بجٹ میں جگہ دینے پر زور دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ اسحاق ڈار کو عام لوگوں کی بات بھی سننی چاہیے۔
تجارتی خسارے میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی سرمایہ کار پالیسی نقائص سے بھر پور ہے۔
’سرکلر ڈیبٹ اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ سرکلر ڈیبٹ کو اخراجات میں شامل کرنے سے بجٹ خسارہ کم کیا گیا ہے۔ سرکلر ڈیبٹ بجٹ خسارے کا ہی حصہ رہے گا۔‘
پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے جلسے جلوسوں میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان شروع کر دیا تھا جسے ماہرین اس جماعت کا دو سال بعد کے انتخابات کے لیے تیاری قرار دیتے رہے ہیں۔
لیکن اس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت سال دو سال کا سوچ رہی ہے لیکن طویل مدتی منصوبہ بندی پر کوئی توجہ نہیں ہے۔







