نوشکی میں ڈرون حملے کا مقدمہ امریکی حکام کے خلاف درج

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ہونے والے پہلے ڈرون حملے کا مقدمہ امریکی حکام کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ حملے میں ہلاک ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور کے بڑے بھائی محمد قاسم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
ڈرون حملہ 21 مئی کو ضلع نوشکی کے علاقے مل میں ایک پرائیویٹ ٹیکسی پر کیا گیا تھا جو کہ ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان سے کوئٹہ کی جانب آ رہی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق اس ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور مارے گئے تھے۔
ڈرون حملے میں مارا جانے والا دوسرا شخص ٹیکسی کا ڈرائیور محمد اعظم تھا جنھوں نے ایف آئی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دوسرے شخص ولی محمد کو تفتان سے ٹیکسی میں بٹھایا تھا۔
یہ مقدمہ امریکی حکام کے خلاف درج کیا گیا ہے تاہم اس میں کسی امریکی اہلکار کا نام نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیویز تھانہ مل میں جن دفعات کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں تعزیرات پاکستان کے دفعات 427، 109 اور 302 کے علاوہ ایکسپلوسو ایکٹ کے دفعات 3، 4 ، 5 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کا دفعہ سات شامل ہے۔
محمد قاسم نے یہ موقف اختیار کیا کہ 21 مئی کو انھیں یہ معلوم ہوا تھا کہ ان کے بھائی محمد اعظم کی ٹیکسی کو حادثہ پیش آیا ہے۔
وہ جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کا بھائی اور ایک سواری گاڑی میں جل گئے تھے اور ان کی لاشوں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

کوئٹہ میں اپنے بھائی کی لاش کی شناخت کرنے کے بعد تفتان میں ان کی تدفین کی گئی۔
مقدمے کے مطابق انھیں بعد انھیں علم ہوا کہ ان کے بھائی کی گاڑی کو امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ ہلاک ہونے والا دوسرا شخص ولی محمد تھا۔
محمد قاسم کے مطابق بعد میں میڈیا کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکی حکام نے اس ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور انھوں پاکستان میں دراندازی کرتے ہوئے دھماکہ خیز مواد استعمال کرکے ان کے بھائی کو مارا۔
محمد قاسم کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی بے قصور تھا اور وہ انتہائی غریب اور چار چھوٹے بچوں کا باپ تھا۔
انھوں نے ایف آئی آر میں درخواست کی ہے کہ ڈرون حملے کے ذمہ دار امریکی حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔







