پاکستان میں مانعِ حمل مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے ایک حکم کے ذریعے ملک میں مانعِ حمل مصنوعات سے متعلق اشتہارات پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
جمعے کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا کی جانب سے جاری ایک حکم نامے میں تمام ٹی وی اور ریڈیو چینلوں کو اپنے نیٹ ورکس پر مانع حمل کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعات پر فوری اور مکمل پابندی عائد کرنے کا کہا ہے، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ادارے نے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔
پیمرا کے بیان میں اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے مانع حمل مصنوعات کے اشتہارات سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں اور عوام اس سلسلے میں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اشتہارات بچے بھی دیکھتے ہیں جو ان مصنوعات کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔
پیمرا کے مطابق والدین نے ان اشتہارات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے پیمرا سے ان پر پابندی کا تقاضا کیا ہے۔
اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے متعلق سرگرم ایک غیرسرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیماکریسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اسد بیگ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اسے ایک غلط فیصلہ اور حل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جنسی طریقوں سے منتقل ہونے والی بیماریوں میں بھی پاکستان ایک ’ہائی رسک‘ (زیادہ خطرے والا) ملک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بچوں کو ایسے اشتہارات سے دور رکھنا ہے تو دیگر ممالک کی طرح انھیں ایسے مخصوص اوقات میں لوگوں کی آگاہی کے لیے نشر کیا جا سکتا ہے جس وقت بچے ٹی وی یا ریڈیو نہیں دیکھ یا سن رہے ہوتے۔
’اس مسئلے سے نمٹنے کے بہت طریقے تھے لیکن میرے خیال میں مکمل پابندی کوئی حل نہیں ہے۔ یہ کبھی بھی اس کا حل نہیں رہا۔‘
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کروڑوں عورتوں کی خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور سہولیات تک رسائی نہیں ہے۔ ایسے میں ریڈیو اور ٹی وی پر پابندی اس مسئلے کی سنگینی میں اضافہ کر سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







