میڈیا پر جرائم کی ڈرامائی تشکیل پر پابندی

،تصویر کا ذریعہbbc

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستانی حکومت نے مقامی ٹی وی چینلز پر خودکشی، ریپ، قتل اور اقدام قتل کی ڈرامائی تشکیل یا دوبارہ عکس بندی پر پابندی عائد کردی ہے جس کا اطلاق اگلے ماہ کے پہلے ہفتے سے ہوگا۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کے چیئر مین ابصار عالم نے جمعے کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی تمثیل کاری کا معاملہ پاکستان کی پارلیمان کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں زیر بحث لایا جا چکا ہے۔

ابصار عالم کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کہا ہے کہ ان پروگراموں کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیمرا نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ قتل یا خود کشی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کا نہ تو انٹرویو نشر کیا جاسکے گا اور نہ ہی اس کی شناخت بتائی جائے گی۔

پاکستان کے متعدد نجی ٹی وی چینلز پر معاشرے میں ہونے والے جرائم کی دوبارہ منظر کشی کے بعد یہ پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جس میں ملزمان کے انٹرویو بھی چلائے جاتے ہیں۔

ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا نے اس صورت حال کے بارے میں ٹی وی چینل مالکان کو متعد بار اس سے آگاہ کیا لیکن اس حساس معاملہ پر کسی بھی چینل کی جانب سے خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔

انھوں نے کہا کہ ایسے پروگراموں پر پابندی سے اظہارِ رائے کی آزادی متاثر نہیں ہو گی۔

پیمرا چیئرمین نے کہا کہ اگر کوئی ٹی وی چینل واضح احکامات کے باوجود ایسے پروگراموں پر پابندی عائد نہیں کرتا تو پہلے مرحلے میں اس ٹی وی چینل کا لائسنس ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا جائے گا۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ اگر اس عرصے کے دوران کسی بھی ٹی وی چینل نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو پھر اس ٹی وی چینل کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹی وی پر چلنے والے پروگراموں میں جرائم کی دوبارہ منظر کشی کی وجہ سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ابصار عالم کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ متعدد سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ انھوں نے جرائم کے نت نئے طریقے مختلف ٹی وی چینلز پر چلنے والے پروگراموں میں جرم کی دوبارہ منظر کشی سے سیکھے ہیں۔

چیئرمین پیمرا نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹنگ کی آئینی اور صحافتی اصولوں کے مطابق اجازت ہوگی اور اس کے لیے شرائط وضوابط طے کیے جا رہے ہیں جو جلد ہی جاری کردیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران ٹی وی چینلز پر بعض پروگراموں کے حوالے سے شکایات پر پیمرا نے تمام چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوئی ایسا پروگرام نشر نہ کریں جس سے کسی بھی شخص کی تضحیک یا شخصی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹ براڈکاسٹ سیٹلائیٹ پاکستان میں جلد ہی شروع ہورہی ہے جس کے بعد غیرقانونی بھارتی چینلز بند کیے جاسکیں گے۔