آئین شکنی کا مقدمہ، مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
جسٹس مظہر عالم کاکاخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے یہ حکم بدھ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی طرف سے سابق فوجی صدر کے وارنٹ گرفتاری کی تکمیل کے سلسلے میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں کیا۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وارنٹ کی تکمیل کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ملزم کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے گئے لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ملزم پرویز مشرف ان دنوں بیرون ملک ہیں۔
اس رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دینے اور اس کی اطلاعِ عام کے لیے اردو اور انگریزی اخبارات میں اشتہار شائع کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ملزم کو اشتہاری قرار دینے کے اشتہارات عدالت کے باہر اور ملزم کی ملک میں جائیداد کے باہر چسپاں کیے جائیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بھی ملزم پرویز مشرف کی جائیداد کی ضبطی کے علاوہ اُن کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے سابق فوجی صدر کو ملک سے باہر بھجوانے سے متعلق تفصیلی جواب عدالت میں جمع کروایا جس میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم کی روشنی میں اُنھوں نے ملزم پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے میں پرویز مشرف کے ضمانتی میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی نے 25 لاکھ روپے نقد عدالت میں جمع کروانے کے بعد اپنی جائیداد کے کاغذات حاصل کر لیے۔
خیال رہے کہ 19 اپریل کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کو پرویز مشرف کو گرفتار کر کے گیارہ مئی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
پرویز مشرف آئین شکنی کے مقدمے میں ماضی میں ایک مرتبہ عدالت میں پیش ہو چکے ہیں اور اس وقت ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
وہ سپریم کورٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر ملک سے باہر سفر کرنے کی اجازت ملنے کے بعد مارچ کے مہینے میں دبئی چلے گئے تھے اور آج کل وہ برطانیہ میں موجود ہیں۔







