’نوٹ درختوں پر نہیں اگتے‘، کوئٹہ میں ڈاکٹروں کا احتجاج

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ڈاکٹروں نے جعلی نوٹ لگے مصنوعی درختوں اور شربت کی ریڑھی کے ساتھ احتجاج کیا ہے۔
ڈاکٹروں نے یہ انوکھا احتجاج سینیئر ڈاکٹر ارشاد کھوسہ کی بازیابی اور اپنے دیگر مطالبات منوانے کے لیے کیا۔
کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں طویل عرصے سے احتجاج پر ہیں لیکن دو روز قبل سینیئر ڈاکٹر ارشاد کھوسہ کے اغوا کے خلاف انھوں نے شہر میں ایک احتجاجی ریلی نکالی۔
سول ہسپتال سے نکالی جانے والی ریلی میں دو انوکھی چیزیں تھیں۔ ان میں سے ایک وہ دو مصنوعی درخت تھے جن پر جعلی نوٹ لگائے گئے تھے۔
اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ حکام سے جب مذاکرات کرنے گئے تھے انہیں یہ جواب دیا گیا تھا کہ نوٹ درختوں پر نہیں اگتے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس اجلاس میں درختوں پر نوٹوں کی نہ اگنے کی بات گرفتاری سے قبل بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی نے کی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب نیب نے سابق سیکریٹری خزانہ کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہاں سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’درختوں پر جعلی نوٹ لگاکر احتجاج کے ذریعے یہ بتانا ہے کہ یہاں درختوں پرنوٹ صرف بیوروکریسی اور بڑے لوگوں کے لیے اگتے ہیں۔‘
اس کے علاوہ ڈا کٹر وں کی ریلی میں ایک ریڑھی بھی تھی جس پر وہ شربت دیتے رہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریلی میں ریڑھی ان کی جانب سے علامتی طور پر اس بات کا اظہار تھا کہ معاشی مسائل کے باعث وہ ریڑھی لگانے پر مجبور ہوں گے ۔
ریلی کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے اور اپنے مطالبات کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ڈاکٹروں نے یہ مطالبہ کیا کہ اغوا ہونے والے سینیئر ڈاکٹر کو فوری طور بازیاب کرنے علاوہ ان کے دیگر مطالبات تسلیم کیے جائیں۔







