کوئٹہ میں لائبریری کی بحالی کے لیے بھوک ہڑتال

کوئٹہ میں شہر میں صرف ایک پبلک لائبریری ہے
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں شہر میں صرف ایک پبلک لائبریری ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں11 برس سے ایک پبلک لائبریری غیر فعال ہونے کے خلاف ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کا علامتی بھوک ہڑتال چوتھے ماہ میں داخل ہو گیا ہے۔

یہ بھوک ہڑتالی کیمپ علمدار روڑ پر بند لائبریری کے سامنے قائم کیا گیا ہے۔

بھوک ہڑتال میں شریک ایک طالب علم محمد عرفان کا کہنا تھا کہ لائبریری نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

کوئٹہ میں شہر میں صرف ایک پبلک لائبریری ہے۔

لائبریریوں کی قلت کے باعث علمدار روڑ پر ہزارہ عید گاہ کے اندر ایک اور لائبریری کے قیام کے لیے عمارت تعمیر کی گئی۔

اس لائبریری کی عمارت نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اطراف میں درخت اس کی خوبصورتی میں مزیدا ضافہ کر دیتے ہیں۔

’لائبریری کی تعمیر پر 26کروڑ روپے کی لاگت‘
،تصویر کا کیپشن’لائبریری کی تعمیر پر 26کروڑ روپے کی لاگت‘

اس عمارت میں فرنیچر وغیرہ موجود ہونے کے علاوہ کتابوں کے لیے الماریاں بھی بنی ہیں مگر وہ کتابوں سے خالی ہیں۔

پروگریسو اکیڈمک فورم کے جنرل سیکریٹری علی رضا منگول نے بتایا کہ اس لائبریری کو 11سال قبل تعمیر کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’لائبریری کی تعمیر پر 26کروڑ روپے کی لاگت‘ آئی مگر 11 سال گزرنے کے باوجود اس کو فعال نہیں بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے بند ہونے اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت میں پڑے فرنیچر اور کمپیوٹروں کے خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

علی رضا کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کی مخصوص صورتحال کی وجہ سے ہزارہ قبیلے کے لوگ شہر کے دیگر علاقوں میں آزادی کے ساتھ جا بھی نہیں سکتے۔

انھوں نے کہا احتجاج کا مقصد متعلقہ حکام پر لائبریری کو جلد سے جلد فعال بنانے کے لیے دباؤ ڈالناہے۔

بھوک ہڑتال پر بیٹھے لوگوں نے بتایا کہ چند روز بشتر ڈائریکٹر سپورٹس اور کلچر نے عمارت کا دورہ کیا تھا اور انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ لائبریری کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔