پشاور: پولیس کی جوابی کارروائی میں مسلح شخص ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نامعلوم شخص نے ایک ہوٹل پر فائرنگ کی تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کر کے اسے ہلاک کر دیا۔
یہ واقعہ منگل کو ڈبگری کے علاقے میں بنگش ہوٹل میں پیش آیا۔
سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور عباس مجید مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس ڈبگری کے علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی تھی اور جب پولیس بنگش ہوٹل پہنچی تو مسلح شخص نے اپنے کمرے سے فائرنگ کی۔
عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے بعد پولیس نے پہلے کمرے میں آنسو گیس کے گولے پھینکے اور پھر کمرے میں داخل ہو کر مسلح شحص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مسلح شخص کے کمرے سے ایک بیگ ملا ہے جسے وہ تحقیقات کے لیے ساتھ لے گئے ہیں۔
مسلح شخص کا نام الحیا خان ہے اور ان کا تعلق شمالی وزیرستان ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسلح شخص گذشتہ روز ہی اس ہوٹل میں قیام کے لیے پہنچا تھا اور وہ کمرا نمبر 204 میں مقیم تھا۔
ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہوا کہ اس نے فائرنگ کیوں کی اور یہ کہ کیا وہ نشے میں تھا۔
ڈبگری کے علاقے میں ڈاکٹروں کے نجی کلینک اور بڑے بڑے میڈیکل سینٹر واقع ہیں اور وہاں پشاور کے علاوہ دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔
اسی علاقے میں اب متعدد ہوٹل قائم ہیں جہاں بیشتر مریض اور ان کے ساتھ آنے والے افراد قیام کرتے ہیں۔
ادھر دیر میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے ملاکنڈ ریجن نے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ دو مختلف واقعات میں ملوث تھے۔
انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں افراد کے نام گل زادہ، عمر حیات اور احسان اللہ ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تینوں افراد سنہ 2009 سے 2011 تک دیگر شدت پسندوں کے ہمراہ چترال میں سکیورٹی فورسز اور دیر میں ایک مسجد پر حملے میں ملوث تھے۔







