بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین گرفتار

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے صوبہ بلوچستان کے پبلک سروس کمیشن کے سابق چیئرمین اشرف مگسی کو اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت متعدد الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔
نیب بلوچستان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اشرف مگسی پر اپنے اختیارات کے غلط استعمال کے علاوہ غیر قانونی بھرتیوں اور کروڑوں روپے کے بدعنوانی کے الزامات بھی ہیں۔
* <documentLink href="" document-type=""> بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے</documentLink>
* <documentLink href="" document-type=""> بدعنوانی کا الزام: بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ گرفتار</documentLink>
* <documentLink href="" document-type=""> خیبر پختونخوا میں نو سرکاری افسران گرفتار: نیب</documentLink>
اشرف مگسی سنہ 2011 میں پانچ برس کے لیے چیئرمین پبلک سروس کمیشن کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے تاہم نومبر سنہ 2014 میں گورنر بلوچستان نے ایک انکوائری کے بعد انھیں برطرف کر دیا تھا۔
اہلکار کے مطابق سابق چیئرمین کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ خاصے عرصے سے جاری تھا اور ان کی گرفتاری پیر کو عمل میں آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اشرف مگسی سے قبل نیب اس حوالے سے پبلک سروس کمیشن کے دو ڈپٹی ڈائریکٹروں کو پہلے ہی گرفتار کر چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیاز محمد اور عبدالوحید نامی یہ افسران اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔
نیب کے سابق چیئر مین پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے اپنی تین قریبی خواتین رشتہ داروں کو بھرتی کرنے کے علاوہ بڑی تعداد میں دیگر نااہل لوگوں کو بھرتی کیا ۔
سابق چیئرمین اور گرفتار شدہ ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الوحید پر اپنے اپنے بیٹوں کو سیکشن افسر بھرتی کروانے کے الزامات بھی ہیں۔
خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو نے بلوچستان میں بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز کیا ہے۔
گذشتہ ہفتے سابق صوبائی سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو بھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
مشتاق رئیسانی کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران نیب کے اہلکاروں نے 65 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم اور سونا برآمد کیا تھا۔
اس برآمدگی کے بعد قومی احتساب بیورو بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل طارق محمود نے کہاہے کہ مشتاق رئیسانی کےگھر سے جس بڑے پیمانے پر کرنسی برآمد ہوئی اس کی پاکستان کی تاریخ میں پہلے مثال نہیں ملتی۔







