’طالبان کے خلاف طاقت کا استعمال واحد حل نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ جب مذاکرات کے تمام راستے بند نہیں ہوئے ہیں ایسے میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کو واحد حل کے طور پر اپنایا نہیں جا سکتا۔
بی بی سی فارسی سروس کے نامہ نگار محمد وزیری سے بات کرتے ہوئے خارجہ امور کے مشیر نے ایک مرتبہ پھر طالبان اور کابل حکومت میں مفاہمت کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر ایک مرتبہ پھر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ فوجی طاقت افغان مسئلے کا واحد حل نہیں ہو سکتا۔
افغان حکومت کی طرف سے طالبان کے خلاف دیگر ذرائع استعمال کرنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ چودہ برس سے نیٹو اور امریکی فوجیوں افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں لیکن وہ کوئی حل نکالنے میں ناکام رہی ہیں۔
پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر نے افغان مسئلہ کے غیر فوجی حل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ماہ کابل میں تشدد کے واقعہ کے بعد پاکستان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ چہار ملکی مذاکرات میں پاکستان کی حکومت نے تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر طالبان بات چیت پر آمادہ نہ ہوئے تو ان کے خلاف اسلام آباد بھرپور فوجی کارروائی کرے گا۔
طالبان کے ایک وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے نہ تو اس وفد کے اسلام آباد آنے کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔ تاہم انھوں نے کہا کہ افغان مصالحتی عمل میں شریک چاروں ملک قطر میں طالبان کےدفتر سے رابطے میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طالبان نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ایک وفد اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کابل میں اپریل کی 19 تاریخ کو ہونے والے بم دھماکے میں 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی تھی جس کے بعد کابل اور اسلام آباد میں تعلقات بہت کشیدہ ہو گئے تھے۔







