جماعت اسلامی کی شوریٰ میں خواتین شامل

،تصویر کا ذریعہAFP
لاہورمیں جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں منگل یعنی آج سے شروع ہونے والا مرکزی شوریٰ کا تین روزہ اجلاس اس وجہ سے منفرد ہے کہ اس میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والی دس خواتین ارکان بھی شریک ہو رہی ہیں۔
جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات صائمہ افتخار کا کہنا ہے کہ مرکزی شوریٰ میں خواتین ارکان کی شمولیت سے زیادہ موثر فیصلوں کی توقع ہے۔
لاہور سے صحافی عبدالناصر کے مطابق خواتین کو جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ میں نمائندگی گذشتہ سال جماعت کے دستور میں ترمیم کے بعد دی گئی تھی جس کے لیے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لیے ایک ایک جبکہ پنجاب اور سندھ کے لیے چار چار نشستیں مختص کی گئیں۔
جماعت اسلامی کے مرکزی ڈپی سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف نے بتایا کہ ملک بھر سے جماعت اسلامی کی تقریباً پانچ ہزار خواتین ارکان نے مرکزی شوریٰ میں نمائندگی کے لیے خواتین ارکان کا انتخاب کیا۔
شوریٰ کی نومنتخب اراکین میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان کی اہلیہ حمیرا طیبہ اور سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی اہلیہ عائشہ منور بھی شامل ہیں جبکہ جماعت کے سرکردہ قومی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کی بہن دردانہ صدیقی شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری ہونے کے ناتے سے پہلے ہی شوریٰ کی رکن ہیں۔
جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات صائمہ افتخارنے بتایا کہ شوریٰ کی رکن منتخب ہونے والی زیادہ تر خواتین جماعت اسلامی سے وابستہ افراد کی رشتہ دار نہیں ہیں۔
ان کے مطابق خواتین کی جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ میں شمولیت سے جہاں خواتین کو جماعت کے فیصلوں میں اختیار اور کردار ملے گا وہیں خواتین کی مشاورت سے کیے جانے والے فیصلے زیادہ موثر بھی ثابت ہوں گے۔



