سپریم کورٹ پاناما کمیشن کا ضابطہ تبدیل کر سکتی ہے‘

ہمارا دامن صاف ہے اور مخالفین سے بڑھ کر موثر احتساب کے لیے کوشاں ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہمارا دامن صاف ہے اور مخالفین سے بڑھ کر موثر احتساب کے لیے کوشاں ہیں

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والا کمیشن کےٹرم آف ریفرنس میں ترمیم اور توسیع کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان پیپلز پارٹی نے کہہ رکھا ہے کہ تمام اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ جن لوگوں کے خلاف تحقیقات ہونی ہیں وہ خود ضابطہ کار طے نہیں کر سکتے۔

اس سے قبل بدھ کو وفاقی کابینہ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجے گئے ضابطہ کار کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم نے سنیچر کو لاہور میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین ان پر تنقید صرف اقتدار کے حصول کے لیے کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’سپریم کورٹ مذکورہ احتسابی کمیشن کے ٹی او آر ز کے دائرہ اختیار میں ترمیم اور توسیع کر سکتی ہے ۔ اپوزیشن کو بے جا تنقید نہیں کرنی چاہیے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمارے تمام ادوارِ حکومت میں کوئی کرپشن سکینڈل ثابت نہیں ہوا، مخالفین کی تمام تر کو ششوں کے باوجود ہر بار ہماری حکومت اپنے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے سرخرو ہوئی۔‘

سیاسی جماعتیں پاناما لیکس کے بعد حکومت کے خلاف جلسے جلوس کر رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسیاسی جماعتیں پاناما لیکس کے بعد حکومت کے خلاف جلسے جلوس کر رہی ہیں

پاکستانی پارلیمان میں موجود بڑی اپوزیشن جماعتیں یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ اگر سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آرز کے حوالے سے ان سے مشاورت نہ ہوئی تو وہ عوامی احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔

اس سلسلے میں پی ٹی آئی اور پی پی پی ابتدائی طور پر جلسے جلوس کر رہی ہے اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ وزیراعظم دو مرتبہ قوم سے خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ ان آف شور کمپنیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔