عمران فاروق قتل کیس کے ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد

،تصویر کا ذریعہMetropolitan Police
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں ایک مرتبہ پھر عبوری چالان متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا ہے جس کے مطابق محسن علی کو مرکزی ملزم جبکہ معظم علی اور خالد شمیم کو سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔
ادھر اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم معظم علی کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔
ملزم نے اس مقدمے میں متعلقہ عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اُن کے موکل کو محض شک کی بنا پر اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ملزم معظم علی کارگو سروس میں کلیئرنگ کمپنی کا مالک تھا جنہوں نے اپنی کمپنی کے نام پر دیگر دو ملزمان محسن علی اور کاشف کے ویزے لگوائے تھے۔
پیر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے جانے والے عبوری چالان میں گرفتار ہونے والے تینوں ملزمان کے اقبالی بیان بھی شامل ہیں جس میں ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ملزمان نے اس جرم کا اعتراف بھی کیا ہے۔
ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ملزم خالد شمیم کراچی واٹر بورڈ میں سرکاری ملازم ہے اور اُنھیں مبینہ طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ جیسے ہی محسن علی اور کاشف خان لندن سے کراچی آئیں تو اُنہیں ائرپورٹ پر ہی قتل کر دیا جائے تاہم پاکستان کے خفیہ اداروں نے یہ سازش ناکام بنادی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
محسن علی اور کاشف پر الزام ہے کہ اُنھوں نے لندن جا کر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کیا تھا۔
ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما اور سابق رکن پارلیمان عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن میں میٹروپولیٹن پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم اس واقعے کو پانچ برس سے زیادہ عرصے گزرنے کے بعد پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی مدعیت میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت سات افراد پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمے میں الطاف حسین کے علاوہ ان کے رشتہ دار افتخار حسین، رابطہ کمیٹی کے رکن محمد انور، معظم علی، خالد شمیم، کاشف خان اور محسن علی کے نام شامل ہیں۔
ان سات ملزمان میں سے تین افراد معظم علی، محسن علی اور خالد شمیم پاکستان کے قانون نافد کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔
معظم علی کو گذشتہ برس اپریل میں کراچی میں ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ پاکستانی حکام نے خالد شمیم اور محسن علی کی گرفتاری جون سنہ 2015 میں ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ انھیں چمن کے قریب پاک افغان سرحدی علاقے سے پکڑا گیا۔







