پی آئی اے کو لمیٹڈ کمپنی بنانے کا بل منظور

پی آئی اے کے ملازمین کی تنظیم ادارے کی نج کاری کی مخالفت کرتی رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپی آئی اے کے ملازمین کی تنظیم ادارے کی نج کاری کی مخالفت کرتی رہی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قومی ایئرلائن کو لمیٹڈ کمپنی بنانے کا بل منظور کر لیا گیا ہے جبکہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اس بل کی منظوری کی مشروط حمایت کی ہے۔

یہ بل وفاقی وزیر برائے قانون زاہد حامد کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت قومی ایئرلائن کے ملازمین پر درج کیے گئے مقدمات واپس نہیں لیتی اس وقت تک اس بل کی حمایت نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایوان کو یقین دہانی کروائی کہ پی آئی اے ملازمین کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لے لیے جائیں گے، اس پر ایوان میں موجود سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے شعر پڑھ کر جواب دیا کہ ’کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔‘

وفاقی حکومت کی طرف سے پی آئی اے کو لمیٹیڈ کمپنی بنانے کے اعلان کے بعد پی آئی اے کے ملازمین نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا۔ کراچی میں احتجاج کے دوران دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے جن ملازمین کے مقدمات عدالتوں میں نہیں گئے اُنھیں اگلے 24گھنٹے میں ختم کر دیا جائے گا جبکہ جن مقدمات کے چالان عدالتوں میں بھجوائے گئے ہیں اُنھیں قانونی طریقۂ کار کے تحت ہی ختم کیا جائے گا۔

پی آئی اے کو لمیٹڈ کمپنی بنانے کے بل کو حکومت نے قومی اسمبلی میں اکثریت ہونے کی وجہ سے منظور کروا لیا تھا۔ سینیٹ میں عددی برتری حاصل نہ ہونے کے باعث حکومت یہ بل ایوان بالا سے منظور نہیں کروا سکی تھی، جس کے بعد حکومت نے اس بل کو منظور کروانے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔

اس بل میں حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے دی گئی متعدد تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

بل کے منظور ہونے کے مرحلے پر حزب مخالف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے واک آؤٹ کیا تھا۔ اس جماعت کے رہنماؤں کا موقف تھا کہ اس بل کے مندرجات کے بارے میں اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

مبصرین کے مطابق حکومت کی طرف سے عالمی بینک سے قرضہ لینے کے لیے اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ متعدد سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس میں پی آئی اے بھی شامل ہے۔