’ریڈ زون خالی کر دیں، مظاہرین کو نئی ڈیڈ لائن‘

جب تک احکامات نہیں دئے جاتے پولیس نہ لاٹھی چارج کر سکتی ہے، نہ گرفتاریاں اور نہ ہی آنسو گیس کا استعمال کر سکتی ہے: انتظامی اہلکار
،تصویر کا کیپشنجب تک احکامات نہیں دئے جاتے پولیس نہ لاٹھی چارج کر سکتی ہے، نہ گرفتاریاں اور نہ ہی آنسو گیس کا استعمال کر سکتی ہے: انتظامی اہلکار
    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلمنٹ ہاؤس کے سامنے موجود مظاہرین کو ریڈ زون خالی کرنے کے لیے دو گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو کارروائی کے لیے پوری تیاری ہے۔

ریڈ زون میں سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے حامیوں کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے جبکہ دھرنے کی وجہ سے موبائل فون کی سہولیات بھی دو روز سے ریڈ زون اور اس کے اطراف میں معطل ہیں۔

دارالحکومت کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے موبائل فون سروسز ت غیر واضح مدت تک بند رہیں گی۔

حکام کے مطابق اتوار کو ریڈ زون میں داخل ہونے والے مظاہرین کی تعداد دس ہزار افراد کی تھی جو اب دو ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔

ں ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلمنٹ ہاؤس کے سامنے موجود مظاہرین کو ریڈ زون خالی کرنے کے لیے دو گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو کارروائی کے لیے پوری تیاری ہے

اس سے پہلے مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ فی الحال دھرنا دینے والوں سے نمٹنے کے لیے ان کا کھانا، پینا اور ادویات کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ تاہم، ’جب تک سیاسی حکومت فیصلہ نہیں کرتی یا ان سے مذاکرات نہیں کرتی ہم کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ڈی چوک میں پولیس، رینجرز اور فوجی اہلکار موجود ہیں۔ ’پولیس نہ لاٹھی چارج کر سکتی ہے، نہ گرفتاریاں اور نہ ہی آنسو گیس کا استعمال کر سکتی ہے جب تک ہمیں احکامات نہیں دیے جاتے۔‘

خیال رہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ممتاز قادری کے چہلم تک حکومت کو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور توہین رسالت کے مقدمے میں ملزمہ آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اس احتجاج اور دھرنے کا انتظام سنی تحریک اور دیگر مذہبی جماعتوں نے کیا ہے۔

سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ان کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔

اپنے جاری کردہ پریس ریلیز میں ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ’ابھی صرف پلان اے چل رہا ہے، پلان بی پر حکومت کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔‘

مظاہرین چاہتے ہیں کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے ہی بات ہو مگر سّنی تحریک کے سینیئر رہنما ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ فوج کی ضمانت کے بغیر بات نہیں ہو گی۔

’فوج کی نگرانی میں، ان کی گارنٹی کے ساتھ ہم سول حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پر امن ہیں اور اپنے مطالبات کو منوا کر ہی جائیں گے
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پر امن ہیں اور اپنے مطالبات کو منوا کر ہی جائیں گے

مقامی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اتوار سے وہ دھرنا دینے والوں سے مذاکرات کاروں پر بات چیت کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ’پہلے وہ صرف آرمی چیف سے بات کرنا چاہ رہے تھے، پھر ہم نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیئر قیادت پر انھیں آمادہ کیا، ابھی تک سیاسی قیادت سے ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔‘

28مارچ کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نواز شریف نے لاہور میں ہونے والے شدت پسند حملے کے علاوہ نام لیے بغیر پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والوں کے بارے میں کہا کہ اشتعال، نفرتیں اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والوں کو ضرور قانون کے کٹہرے تک لایا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ ’حکومت نے اب تک صبر و تحمل سے کام لیا ہے لیکن اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اشتعال پھیلانے، نفرتوں کی آگ بھڑکانے، لوگوں کو تکلیف دینے اور فرقہ واریت میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’امن، سلامتی، محبت اور اخوت کا دین ہے۔ اللہ اور رسول کے نام پر لاقانونیت اور بدامنی پھیلانا، جلاؤ گھیراؤ اور املاک کو نقصان پہنچانا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔‘

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پر امن ہیں اور اپنے مطالبات کو منوا کر ہی جائیں گے۔ اسلام آباد کے شہری اور ماہرین حکومت کی خاموشی اور شہر کو یرغمال بنانے پر تنقید کر رہے ہیں۔