پنجاب میں ’فورسز کی کارروائیاں‘، ہلاکتیں 68 ہوگئیں

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ہے ہمارا ہدف دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ انتہا پسندانہ سوچ کوشکست دینا ہے جبکہ فوجی حکام کے مطابق خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کی مدد سے لاہور سمیت پنجاب کے دو بڑے شہروں میں کارروائیاں کی گئی ہیں۔

دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔

فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں، فوج اور رینجرز کے اہلکاروں نے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گذشتہ رات سے لے کر اب تک کل پانچ آپریشنز کیے ہیں۔

گلشنِ اقبال پارک میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 68 ہو گئی ہے۔ اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس لاہور میں جاری ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس لاہور میں جاری ہے

ہلاک شدگان کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری ہے جن میں بچوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نےدورہ برطانیہ منسوخ کر کے پیر کی صبح لاہور پہنچے۔ جہاں انھوں نے جناح ہسپتال کیا دورہ کیا اور اعلیٰ سطحی اجلاس کی قیادت کی۔

انھوں نے جناح ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔ جناح ہسپتال میں سانحہ اقبال پارک کے 150 سے زائد زخمی زیر علاج ہیں جن میں 26 کی حالت تشویشناک ہے۔

گلشن اقبال پارک میں دھماکے اور دہشت گردی کے خلاف مجموعی حکمت عملی سے متعلق لاہور میں ہنگامی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابی لازم ہے۔

’بزدل دشمن آسان اہداف کو نشانہ بنارہا ہے لیکن بحیثیت قوم اور حکومت دہشت گردی کے خلاف ہمارا عزم مضبوط سے مضبوط تر ہورہا ہے۔‘

سانحہ گلشن اقبال کے سوگ میں لاہور شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسانحہ گلشن اقبال کے سوگ میں لاہور شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند ہیں

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ہدف دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ انتہا پسندانہ سوچ کوشکست دینا ہے جو ہمارے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

اجلاس میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں اورانٹیلی جنس کے ایجنسیوں کے سربراہان نے وزیراعظم کو لاہورحملے کی تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter

محمد نوازشریف نے ہدایت کی کہ دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں رابطے مزید متحرک اور مضبوط بنائیں۔

پانج آپریشنز اور متعدد گرفتاریاں

ادھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو راولپنڈی میں سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے

فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں، فوج اور رینجرز کے اہلکاروں نے لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں گذشتہ رات سے لے کر اب تک کل پانچ آپریشنز کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کارروایئوں میں بہت سے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارود حاصل کیا گیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور مزید تفصیلات موصول ہو رہی ہیں۔

پنجاب میں سوگ

لاہور سے مقامی صحافی اے این خان کے مطابق گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج کے 40 رکنی دستے اور سی ٹی ڈی کے ارکان نے پیر کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اہم شواہد اکٹھے کیے جبکہ عینی شاہدین کے تاثرات بھی قلمبند کیے۔

اس سے قبل تھانہ اقبال ٹاؤن کے ایس ایچ او کے مطابق محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور شواہد اکھٹے کیے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں اور اب تک 30 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔

سانحہ گلشن اقبال کے سوگ میں لاہور شہر میں تمام بڑے کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند ہیں۔

سکیورٹی کے پیش نظر لاہور چڑیا گھر، رائے ونڈ سفاری پارک اور جلو سفاری پارک کو ایک روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ریس کورس میں جاری جشن بہاراں اور کینال میلہ کی سرگرمیاں بھی معطل کردی گئی ہیں جبکہ گلشن اقبال پارک کو تا حکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔

وکلا بھی یوم سوگ مناتے ہوئے پیر کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، جبکہ مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں گلشن اقبال پارک دھماکے کی مذمت پر مشتمل ایک قرار داد بھی جمع کرادی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تفریحی مقامات کی سکیورٹی سخت کی جائے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات تیز کیے جائیں۔

۔پاکستان فوج کے 40 رکنی دستے اور سی ٹی ڈی کے ارکان نے پیر کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اہم شواہد اکٹھے کیے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن۔پاکستان فوج کے 40 رکنی دستے اور سی ٹی ڈی کے ارکان نے پیر کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اہم شواہد اکٹھے کیے

گلشن اقبال میں جائےوقوعہ سے ایک مشکوک شخص کی لاش کےاعضا کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوادیاگیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی طاقت کا مرکز ہے۔

پاکستانی طالبان کے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار گروپ نے کہا ہے کہ ’ ہم عیسائیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، جو ایسٹر منا رہے تھے۔‘