’میں سمجھا کہ کوئی بڑا جھولا ٹوٹ گیا‘

لاہور دھماکے میں اب تک 69 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنلاہور دھماکے میں اب تک 69 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے
    • مصنف, محمد عاصم نصیر
    • عہدہ, صحافی، لاہور

خود کش حملے کی اطلاع ملنے پر جب میں جائے وقوعہ پہنچا تو ہر طرف ایمبولینسز کا شور اور زخمیوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھی ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ننھے پھولوں کو خون میں لت پت دیکھ کر اور انکے والدین کو دیوانہ وار آہ و بکا کرتے دیکھ کر سب ہی غمگیمن تھے۔

وہاں موجود ایک شخص نے مجھے بتایا کہ میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ابھی پارک میں داخل ہو رہا تھا کہ اچانک خوفناک دھماکے نے مجھے زمین پر گرا دیا پھر کچھ سمجھ نہیں آیا اتوار کی شام ہمارا معمول ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ گلشن اقبال پارک آئیں مگر ہمیں کیا علم تھا کہ اس طرح زندگی تھم جائے گئی اور ہر طرف خون ہی خون ہو گا،

رسول پارک سمن آباد کے شمس الحق نے کہا کہ جیسے ہی میں گلشن اقبال پارک پہنچا تو موٹر سائیکل سٹینڈ سے کچھ آگے ہی بڑھا تھا کہ دھماکے کی آواز آئی اور پھر مٹی کے بادل نے ایسا خوف طاری کیا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔

’ ہر طرف چیخ وپکار تھی اور مدد کے لیے کوئی نظر نہیں آتا تھا ایمرجنسی ریسکیو سروس بھی بہت تاخیر سے آئی،ہم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے لاشوں اور زخمیوں کو اٹھایا، ایسے ہی جذبے جائے وقوعہ پر موجود کئی افراد کے تھے جنھیں قسمت نے پارک میں ہونے کے باوجود محفوظ رکھا اور وہ بال بال بچے۔‘

جن کو چاٹ کھلاتا تھا آج ان کو خون میں لت پت اٹھاتا رہا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجن کو چاٹ کھلاتا تھا آج ان کو خون میں لت پت اٹھاتا رہا

اعوان ٹاون کی رہائشی ثریا اپنے بیٹے کو تلاش کرتی روتے ہوئے یہ دوہراتی تھی کہ کوئی ہے جو مجھے میرے بیٹے سے ملوا دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا دوستوں کے ساتھ یہاں کھیلنے آیا تھا مگر دھماکے کے بعد سے اس کا کوئی علم نہیں۔‘

ایسا ہی کچھ دلخراش منظر سامنے آیا جب ایک نامعلوم موبائل پر بار بار گھنٹی بج رہی تھی اس فون کے مالک کا تو علم نہیں مگر دوسری جانب سے فون کال کرنے والی کوئی ماں تھی۔

گلشن اقبال پارک قیامت صغری کا منظر تو پیش کر رہا تھا مگر پیاروں کو تلاش کرنے والوں کی تعداد اور ان کی آہیں اور سسکیاں میڈیا کو بھی دکھ میں مبتلا کرتی رہیں۔

اقبال ٹاون اتحاد کالونی کے رہائشی شہزاد اس پارک کے باہر روزانہ ریڑھی لگاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’آج میں خوش تھا کہ سامان جلدی بک جائے گا مگر یہاں تو پوری زندگی کا سرمایہ ہی لٹ گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ 14سال سے یہاں ریڑھی پر چاٹ فروخت کررہے ہیں۔ جن کو چاٹ کھلاتا تھا آج ان کو خون میں لت پت اٹھاتا رہا۔‘

شہزاد بتاتے ہیں کہ دھمکا اتنا زور دار تھا کہ ’میں سمجھا کہ کوئی بڑا جھولا ٹوٹ گیا۔‘