’ابو گلشنِ اقبال چلیں‘

آج بھی اتوار کی چھٹی تھی اور ایسٹر کی وجہ سے بھی پارک میں بچوں اور خواتین کا بڑا رش تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنآج بھی اتوار کی چھٹی تھی اور ایسٹر کی وجہ سے بھی پارک میں بچوں اور خواتین کا بڑا رش تھا
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

میری پیدائش لاہور میں ہوئی، بچپن اور شعور کی منزلیں بھی یہیں طے کیں۔ آج گلشنِ اقبال کا نام سن کر میرے بچپن کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔ باغات کے شہر لاہور میں ویسے تو کئی پارکس ہیں لیکن علامہ اقبال ٹاؤن کے گلشنِ اقبال کی اہمیت اس لیے اتنی زیادہ ہے کیونکہ وہاں جھولے، فن لینڈ، پارک، چڑیا گھر اور جھیل اور پھر اس میں کشتی رانی سب ہی ایک ہی جگہ موجود ہے۔

میرا گھر گلشنِ اقبال سے فقط دس منٹ کے مسافت پر تھا اس لیے ہم بہن بھائی بھی ابو کے ساتھ اکثر اسی پارک میں جاتے تھے۔

نوے کی دہائی میں بچپن گزارنے والے تو یہ خوب جانتے ہیں کہ اس وقت نہ تو ٹی وی چینلز کی 24 گھنٹوں کی نشریات ہوتی تھیں اور نہ ہی سمارٹ فونز میسر تھے اور اور ویڈیو گیمز بھی خاص طبقے تک محدود تھیں۔

اس لیے چھٹی کے دن پارک نہ جائیں یہ تو عجیب سی بات لگتی تھی۔

آج بھی مجھے یاد ہے کہ پارک کے گیٹ نمبر ایک دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی کون آئس کریم، پاپ کارن اور برگر کی دکانیں تھیں اور اگر تھوڑا آگے بڑھیں تو دائیں اور بائیں دونوں جانب بہت بڑے رقبے پر الیکٹرک جھولے لگے ہوئے تھے۔ ٹرین گھنٹی بجاتی پورے باغ میں گھومتی تھی اور چائے کی پیالی والے جھولے میں بیٹھ کر بھی بہت مزا آتا تھا۔

گوکہ اب وقت بدل گیا ہے پارکس کے بجائے والدین اپنے بچوں کو ایئر کنڈیشن فن لینڈ لے جانےاور گھر پر ویڈیو گیمز کھلانے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن طبقاتی تقسیم کے شکار اس ملک میں اب بھی ایسے خاندانوں کی کمی نھیں جو صرف تہواروں پر ہی تفریح پر نکلتے ہیں ایسے میں گلشنِ اقبل جیسے چند پارکس ان کے لیے سستی تفریح کا باعث بنتے ہیں۔

آج بھی اتوار کی چھٹی تھی اور ایسٹر کی وجہ سے بھی پارک میں بچوں اور خواتین کا بڑا رش تھا۔

ایک والد جن کے تین بچے اس بم دھماکے میں ہلاک ہوئے نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے ضد کر کے کہا تھا کہ’ابو گلشنِ اقبل چلیں۔‘

مگر اس باپ کو کیا معلوم تھا کہ وہ بچہ باغ میں نہیں موت کی آغوش میں جا رہا ہے۔

ہم بھی گلشنِ اقبال جایا کرتے تھے لیکن کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔ میرا گھر آج بھی وہیں موجود ہے لیکن میں اپنے والد کی طرح اب شاید کبھی میں اپنی دو سالہ بیٹی کی انگلی تھام کر اسے اس پارک میں لے جانے کی ہمت نہ کر پاؤں گی۔