بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 14عسکریت پسند ہلاک

ایف سی اور حساس ادارے نے بلیدہ میں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے کیمپ کے خلاف کارروائی کی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایف سی اور حساس ادارے نے بلیدہ میں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے کیمپ کے خلاف کارروائی کی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان حکام نے الگ الگ کارروائیوں میں 14 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پیر بلوچستان کے علاقے کوہلو میں سرکاری حکام نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے12 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق نساؤ کے علاقے میں حساس اداروں اور ایف سی نے ایک مشترکہ کارروائی کی۔

ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں تنظیم سے تعلق رکھنے والے 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں دو کمانڈر بھی شامل تھے۔

ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد سکیورٹی فورسز پر حملوں اور دیگر جرائم میں ملوث تھے۔ تاہم آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت اور کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس سے قبل ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بلیدہ میں گولی لگنے سے ایک بچی بھی ہلاک ہو گئی۔ قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے اس کی ہلاکت کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا تھا۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی گئیں ان کے مطابق ایف سی اور حساس ادارے نے بلیدہ میں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے کیمپ کے خلاف کارروائی کی۔

ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے عسکریت پسند تنظیم کا ایک کمانڈر ہلاک ہو گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد فورسز کی واپسی کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا۔

فائرنگ کے تبادلے میں ایک اور عسکریت پسند بھی ہلاک ہو گیا۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند سکیورٹی فورسز پر حملوں اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے بلیدہ میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق ایک بیان جاری کرتے ہوئے فائرنگ کے تبادلے میں دونوں افراد کی ہلاکت کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔

بی این ایم نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے فاطمہ نامی دس سالہ بچی سمیت تین عام شہری ہلاک ہوئے۔

جبکہ گذشتہ روز چھتر پھلیجی کے علاقے میں بھی پانچ عام شہریوں کو ہلاک کیا گیا۔