کولمبو سے واپسی سے دبئی روانگی تک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے جب تین ماہ قبل ملاقات ہوئی تو ان کا یہ خیال برقرار تھا کہ وہ اب بھی مقبول ہیں اسی لیے انھیں بیرون ملک لیچکرز کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔
جنرل مشرف سے گذشتہ سال دسمبر میں ملاقات ہوئی تھی۔ ڈی ایچ اے جنرلز کالونی میں رہائش پذیر جنرل پرویز مشرف تک رسائی کے لیے پہلے کالونی کی داخلی چیک پوسٹ اور اس کے بعد دوسری چیک پوسٹ سے گذرنا پڑا جو ان کے گھر کے باہر موجود تھی۔ وہاں رینجرز کے ساتھ پولیس بھی تعینات تھی۔ یہ پولیس اہلکار سپیشل سکیورٹی یونٹ سے تعلق رکھتے تھے جو آپس میں سندھی میں بات کر رہے تھے۔
رینجرز کے ایک اہلکار نے ہم سے تفصیلات معلوم کیں کہ کسی چینل سے ہیں، کون کون آیا ہے، یہ انٹرویو کس پروگرام میں، کتنے بجے اور کہاں نشر ہوگا۔ یہ تفصیلات تحریر کرنے کے بعد ہمیں سامان چھوڑ کر اندر جانے کی اجازت دی گئی اور جب گیٹ سے گھر میں داخل ہوئے تو جیببوں کی تلاشی لی گئی جن میں سوالات بھی موجود تھے۔
اندر جاکر ایک کمرے میں ہمیں بٹھا دیا گیا۔ سادہ کپڑوں میں ایک شخص آیا اس نے سوالات کا صفحہ پڑھنے کے بعد کہا ’اوہ یہ تو آپ کے سوالات تھے‘۔
اس گیسٹ روم میں جنرل مشرف کی چند تصاویر، ان کی آل پاکستان مسلم لیگ کے نشان، عقاب کی شیلڈ اور ٹیبل پر قدیم کراچی کی باتصاویر کتاب، ایک بینجو نواز کی اردو میں آپ بیتی اور سندھی میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کا جہازی سائز میں کلام موجود تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کے ایک خدمتگار نے آکر کہا کہ آپ جب تیار ہوجائیں تو انھیں بتادیا جائے۔ اسی دوران جنرل مشرف کی ترجمان آسیہ اسحاق آگئیں اور دریافت کیا کہ یہ انٹرویو کب اور کہاں کہاں چلے گا۔ ان کی دلچسپی بی بی سی ورلڈ سروس پر چلنے میں زیادہ تھی۔ انھوں نے سوالات دریافت کیے اور اس کے نوٹس لیے ساتھ میں یہ بھی ہدایت کی کہ جنرل مشرف کو پریذیڈنٹ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر کے طور پر بھی سوالات میں ذکر ہو۔
آسیہ اسحاق کو جب بتایا گیا کہ مریم نواز کی جانب سے جنرل مشرف کے انٹرویو پر پابندی کے بارے بیان پر بھی سوال کیا جائے گا تو انھوں نے کہا ’اگر میاں نواز شریف یہ کہتے تو اس کا جواب پریذیڈنٹ صاحب دیتے، اب ان کے بچوں کو تو جواب نہیں دیں گے یہ ان کے سٹیٹس کے مطابق نہیں‘۔
آسیہ اسحاق سوالات لکھ کر اندر گئیں اور انٹرویو کے سیٹ اپ کے لیے ہم سے جگہ پوچھی گئی اور ہدایت کی گئی کہ کسی سامان کو ہاتھ نہ لگایا جائےگا۔ تھوڑی دیر کے بعد جنرل مشرف پنک شرٹ میں نمودار ہوئے اور انٹرویو کی ابتدا ہوگئی۔ اس دوران آسیہ اسحاق مسلسل نوٹس لیتی رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ملاقات میں بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ’کشمیر میں لڑنے والے دہشت گرد نہیں بلکہ مجاہدین ہیں، ان کی طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ کی وجہ سے گڑ بڑ ہوئی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انٹرویو کے اختتام کے بعد مشرف گھر کے اندر روانہ ہوگئے اور ہم سامان سمیٹنے لگے۔ اسی دوران کے خدمت گزار نے جو ان کے لیے دو دہائیوں سے کام کر رہا ہے ہمیں جلد از جلد پیکنگ کے لیے کہا کیونکہ باہر کچھ مزید مہمان انتظار کر رہے تھے۔
پاکستان کا وہ میڈیا جو ان کی سیاست کو آکسیجن فراہم کرتا تھا رات کے پہر میں وہ اسی کو ڈاج دے کر خصوصی پروٹوکول کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچے اور دبئی روانہ ہو گئے۔
کراچی ایئرپورٹ سابق صدر مشرف کی تین داستانوں کا گواہ ہے۔ پہلی داستان 12 اکتوبر 1999 کو شروع ہوئی تھی جب کولمبو سے واپسی پر انھوں نے یہاں قدم رکھا تھا تو اس وقت تک فوج حکومتی انتظام کنٹرول کرچکی تھی۔اس کے بعد 24 مارچ 2013 کو بھی وہ اسی امید سے پہنچے کہ لوگوں کا سمندر ان کا استقبال کرے گا اور 18 مارچ کو رات کی اندھیرے میں وہ اسی کراچی ایئرپورٹ سے بیرون ملک روانہ ہوگئے۔







