مشرفی مہرہ بمقابلہ سرکاری مہرہ

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اگر لال مسجد کے منتظم غازی عبدالرشید کے قتل کے کیس کی سماعت کرنے والے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم پر انتظامیہ اور پولیس واقعی عمل درآمد کرتی تو آج ( 16 مارچ ) سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار کر کے خصوصی پرواز سے اسلام آباد لا کر جج صاحب کے روبرو پیش کر دیا جاتا۔
انہی جج صاحب نے گذشتہ سماعت کے دوران پرویز مشرف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری صاف صاف جاری کیے تھے۔
پرویز مشرف کے وکلا نے ممکنہ گرفتاری کے خلاف حکمِ امتناعی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا مگر عدالتِ عالیہ نے یہ وارنٹ معطل نہیں کیے۔
چنانچہ آج جب پرویز مشرف ایڈیشنل سیشن عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو جج صاحب نے دوبارہ کہا کہ وارنٹ برقرار ہیں اور اب پرویز مشرف کو دو اپریل کو عدالت میں پیش کیا جائے بصورتِ دیگر ان کے دو ضمانتیوں کی خبر لی جائے گی۔
اس دوران آئین کے آرٹیکل چھ سے غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی تین رکنی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 31 مارچ کو بیان قلمبند کرانے کا حکم دیا ہے۔
جب سے یہ عدالت قائم ہوئی مشرف صاحب بس ایک بار اس میں پیش ہو سکے اور اسی اکلوتی پیشی کے دوران ان پر فردِ جرم عائد ہوگئی۔ تب سے ان کی پیشی کا معاملہ عدالتی اپیلوں، ذاتی معالجوں اور مشرف کے وکلا کے درمیان چرخی بنا ہوا ہے۔
بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت کرنے والی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں بھی مشرف صاحب پر فردِ جرم عائد ہوچکی مگر یہاں پیش ہونے کی راہ میں بھی مشرف صاحب کی علالت حائل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
سپریم کورٹ کے ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے معاملے سے متعلق انسدادِ دہشت گردی کی ایک اور عدالت بھی مشرف صاحب کی راہ تکت رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واحد کوئٹہ کی خصوصی عدالت تھی جس نے پرویز مشرف کو ایک بار بھی اصالتاً پیش نہ ہونے کے باوجود اکبر بگٹی کے قتل سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
اس سب کے بیچ آج سہہ پہر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ دیا کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دو برس قبل (جون 2014 ) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ بحال رکھا جاتا ہے۔
تاہم غداری مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت اگر سابق صدر کو گرفتار کرتی ہے یا ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھنا چاہتی ہے تو یہ اس کا اختیار ہوگا، عدالت عظمیٰ کا اس سلسلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
فیصلہ دیتے وقت عدالتِ عظمیٰ نے پرویز مشرف کے خصوصی معالجوں کی رپورٹ کسی آزادانہ میڈیکل پینل کے سپرد کرنے اور اس بابت سیکنڈ میڈیکل اوپینین کی ضرورت کے بارے میں کچھ نہیں کہا اور نہ ہی سرکار نے اس نکتے پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب گیند خصوصی عدالت کے علاوہ نواز شریف حکومت کے کورٹ میں ایک بار پھر اچھال دی گئی ہے کیونکہ ای سی ایل لسٹ میں شامل نام نکالنے یا ڈالنے کا فیصلہ وزارتِ داخلہ کی چار رکنی خصوصی کمیٹی کرتی ہے اور وزارتِ داخلہ کے انچارج چوہدری نثار علی خان ہے۔
اب اگر حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر نہیں کرتی تو پرویز مشرف ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کے لیے آزاد ہیں۔
لیکن پرویز مشرف بیرونِ ملک روانہ ہو جاتے ہیں تو پھر حکومتی وکیل غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی اس عدالت کے سامنے کیا وضاحت پیش کرے گا جس نے پرویز مشرف کو 31 مارچ کو طلب کر رکھا ہے اور غازی رشید کیس سننے والی عدالت کے روبرو کیا کہے گا جس نے پرویز مشرف کو دو اپریل کو ہر صورت میں بلا رکھا ہے۔
پھر بے نظیر قتل کیس اور ججوں کو حبسِ بے جا میں رکھنے والے مقدمات سننے والی دو دیگر عدالتوں میں کیا تاویلاتی بیان داخل کروائے گا ؟
اور پھر سپاہ سالار جنرل راحیل شریف بھی تو ہیں جنھوں نے مشرف صاحب کو عیادتی پھول بھجوائے تھے۔
پرویز مشرف صاحب جب اپنے مداحوں، پارٹی کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں سے ملتے ہیں اور پاک بھارت تعلقات پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہیں تو کرسی پر تادیر بیٹھنے کے باوجود ریڑھ کی ہڈی کا مہرہ ساتھ دیتا رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
مگر حسنِ اتفاق سے سمن، سماعت، پیشی جیسے الفاظ سے جسمانی تکلیف اور مہرے کا تناؤ بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ پرویز مشرف صاحب کے معالجوں کی اس متفقہ رائے میں خاصا وزن ہے کہ ریڑھ کے مہرے میں ہونے والی تکلیف کے اسباب اس قدر نایاب اور انہونے ہیں کہ ان کا علاج صرف دوبئی، یورپ یا امریکہ میں ممکن ہے۔
مشرف صاحب بغرضِ علاج بیرونِ ملک جاتے ہیں یا نہیں جاتے اس سے قطع نظر وفاقی حکومت کو اس بابت کمیشن بنانے کی اشد ضرورت ہے کہ مشرف صاحب کو کسی بھی مقدمے میں پیش کرنے کے تالاب میں چوہدری نثار علی خان کو دھکا کس نے دیا تھا؟
یہ وہی چوہدری نثار علی خان ہیں جنھوں نے مشرف صاحب کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کی سفارش کے تالاب میں نواز شریف کو دھکا دیا اور پھر پرویز مشرف صاحب نے اقتدار سنبھالتے ہی کہا کہ وہ خود نہیں آئے بلکہ انہیں اس تالاب میں دھکا دیا گیا۔
غالباً ایسی ہی کسی دھکم پیل میں ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوتی چلی گئی۔ مگر مملکتی معاملات کا بوجھ اس قدر زیادہ رہا کہ نو برس تک ریڑھ کا مہرہ کھسکنے کے باوجود سن رہا۔ لیکن اب مشرف صاحب کا مہرہ حکومت کے جوڑوں میں بیٹھ چکا ہے۔
دیکھتے ہیں شریف سرکار مشرفی مہرے کے مقابل کون سا مہرہ چلتی ہے؟







