پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا فیصلہ برقرار

سپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ پرویز مشرف کا نام ایسی ایل میں ڈالنے سے متعلق عدالت کا کوئی بھی تحریری حکم نامہ موجود نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ پرویز مشرف کا نام ایسی ایل میں ڈالنے سے متعلق عدالت کا کوئی بھی تحریری حکم نامہ موجود نہیں ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر وفاقی حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اورسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 12 جون 2014 کو سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے پر 15 روز کے بعد عمل درآمد ہونا تھا تاہم اس سے قبل ہی وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 26 فروری 2016 کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ انھیں<link type="page"><caption> علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2016/02/160226_musharaf_case_sc_tk" platform="highweb"/></link>۔

بدھ کو پرویز مشرف کی جانب سے دائر کردہ درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت اگر سابق صدر کو گرفتار کرتی ہے، یا ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا چاہتی ہے تو یہ ان کا اختیار ہوگا، عدالت عظمیٰ کا اس سلسلے میں کوئی کردار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ پرویز مشرف کا نام ایسی ایل میں ڈالنے سے متعلق عدالت کا کوئی بھی تحریری حکم نامہ موجود نہیں ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس میں کسی جج کے ریمارکس تو ہو سکتے ہیں تاہم تحریری فیصلے میں کچھ نہیں لکھا گیا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کو کہا تھا۔

مقدمۂ قتل

سنہ 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے
،تصویر کا کیپشنسنہ 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے

دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب غازی عبدالرشید کے مقدمۂ قتل میں سابق صدر پرویز مشرف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی تھی اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔

بدھ کو اس کیس کی سماعت تو ہوئی تاہم اس حکم نامے پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ نہ تو وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے سندھ کی حکومت سے رابطہ کیا اور نہ ہی پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے کوئی ٹیم تشکیل دی گئی۔

پرویز مشرف کی جانب سے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا تھا تاہم عدالت نے اسے معطل نہیں کیا تھا۔

حاضری کا حکم

ادھر آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے<link type="page"><caption> سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو 31 مارچ کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دے رکھا ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2016/03/160308_musharraf_treason_case_zs" platform="highweb"/></link>۔

پرویز مشرف آئین شکنی کے مقدمے میں ماضی میں ایک مرتبہ عدالت میں پیش ہو چکے ہیں اور اس وقت ان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

حکم میں پرویز مشرف سے کہا گیا ہے کہ وہ خود پر عائد کی گئی فردِ جرم میں لگائے گئے الزامات کا جواب دیں تاہم اس موقعے پر ان پر وکلا استغاثہ جرح نہیں کر سکیں گے۔

حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ملک کےسابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کو شریک ملزم قرار دینے کے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا ہے۔