’تین برس میں ملک مزید پانچ ارب ڈالر کا مقروض‘

موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنموجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا

پاکستان کے امور خزانہ کے پارلیمانی سیکریٹری رانا محمد افضل خان نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک کا مجموعی بیرونی قرض 53 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو یہ قرضے 48 ارب دس کروڑ ڈالر تھے۔ موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔

رانا محمد افضل خان نے کہا کہ ’دانش مندانہ پالیسیوں کے ذریعے حکومت مالیاتی خسارہ 8.4 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گیا ہے جسے اس سال مزید 5.1 فیصد تک کم کیا جائے گا۔

منصوبہ بندی کے پارلیمانی سیکریٹری سید ثقلین بخاری نے ایوان کو بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت توانائی، شاہراہوں اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے اور گوادر کی ترقی جیسے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ لاہور میں اورنج لائن ٹرین منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ نہیں ہے اور پنجاب حکومت بنک قرضوں کے ذریعے اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

قیام امن کی کوششیں

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد سیف سٹی منصوبے پر 12 کروڑ 40 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد سیف سٹی منصوبے پر 12 کروڑ 40 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی

پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

امور داخلہ کی پارلیمانی سیکرتٹری مریم اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب سے متعدد شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ ملک بھر میں مدارس کا اندراج کیا جا رہا ہے اور اشتعال انگیز تقاریر اور مواد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک سوال پر ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد سیف سٹی منصوبے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس پر 12 کروڑ 40 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹروں میں 1800 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے جس کا اگلے ماہ باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔