عالمی بینک کا فاٹا کے متاثرین کے لیے 7.5 کروڑ ڈالر قرض کا اعلان

اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے والے افراد کو پہلے مرحلے میں فی خاندان 35 ہزار روپے دیے جائیں گے
،تصویر کا کیپشناپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے والے افراد کو پہلے مرحلے میں فی خاندان 35 ہزار روپے دیے جائیں گے
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

عالمی بینک نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کی وجہ سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی اور نوزائیدہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری دی ہے۔

عالمی بینک نے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ اس منصوبے کے تحت پانچ قبائلی ایجنسیوں میں شدت پسندی سے متاثر ہونے والے ایک لاکھ 20 ہزار خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

قبائلی علاقوں کے عوام کی بحالی کے منصوبے کے تحت عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کو دو طرح کے فنڈ جاری کیے جائیں گے۔

شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے والے افراد کو پہلے مرحلے میں فی خاندان 35 ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لیے چار ماہانہ اقساط میں 16 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے تین لاکھ 40 ہزار خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گی۔

عالمی بینک کے پاکستان میں سربراہ راشد بن مسعود نے کہا کہ ’اس منصوبے کے تحت حکومت قبائلی علاقوں میں ہنگامی حالات میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا نظام تشکیل دے سکے گی۔‘

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بچوں کے علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے باہر ہیں۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد واپس جانے والے افراد کو صحت عامہ کی ناقص سہولیات کا سامنا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی بحالی کے اس منصوبے تحت قبائلی علاقوں میں تحصیل کی سطح پر 64 ہزار خاندانوں کے دو سال تک کی عمر کے بچوں کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

عالمی بینک کے مطابق متاثرین کی بحالی کا منصوبہ ماضی کے تجربات اوربین الاقوامی سطح پر مکمل ہونے والے پروگراموں کے تحت کیا گیا ہے اور متاثرین کو رقوم کی فراہمی میں شفافیت قائم کرنے کے لیے طریقہ کار بنایا گیا ہے جبکہ غیر جانبدار فریق اس منصوبے کا معائنہ کرے گا۔