’قومی اداروں کی تعمیرنو کے اہداف حاصل نہیں کیےجا سکے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کی 49 کروڑ 70 لاکھ ڈالرکی قسط دینے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کے ڈھانچے کی ازسرنو تعمیر کے اہداف کو حاصل نہیں کیا جا سکا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دبئی میں ادارے کے سٹاف مشن نے 26 جنوری سے چار فروری تک پاکستان کو تین سال کے لیے قرض کی دی جانے والی سہولت کا 10واں جائزہ لیا اور ہیرلڈ فنگر کی سربراہی میں مشن نے پاکستان کے وزیر خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنر سمیت دیگر سینیئر حکام سے ملاقات کی۔
آئی ایم ایف کے مشن کی جانب سے قرضے کی قسط کی منظور کے بعد ادارے کی انتظامیہ اور ایگزیکٹیو بورڈ کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد قسط کی ادائیگی کر دی جائے گی۔
مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی تعمیرنو کے اہداف کو عمل درآمد نہیں کر سکا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی کےشعبے میں اصلاحات، کاروباری ماحول میں مقابلے کی فضا پیدا کرنے، ٹیکس محصولات کے دائرے کو بڑھانے، قومی اداروں میں خسارے کو ختم کرنا بہت اہم رہے گا۔
’ان اصلاحات کو مکمل کرنے کی صورت پاکستان مستقل طور پر مضبوط اقتصادی ترقی کر سکے گا اور ملک کے وسیع تر اقتصادی مقاصد کو حاصل کر سکے گا۔‘
آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی میدان میں بہتری کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں معاشی سرگرمیاں مضبوط رہی ہیں۔
اگرچہ کپاس کی فصل اچھی نہیں ہوئی، برآمدات میں کمی ہوئی اور بیرونی ماحول ترقی کے امکانات پر اثر انداز ہو رہے ہیں لیکن تیل کی کم قیمتوں، توانائی کی فراہمی میں بہتری کی منصوبہ بندی، پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق سرمایہ کاری، تعمیرات کے شعبے میں بہتری سے اقصتادی ترقی کی شرح 4.5 فیصد تک بڑھنے کی امید ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ نگرانی کی بہتر پالیسی کی وجہ سے منہگائی قابو میں رہے گی۔
زرِمبالہ کے ذخائر دسمبر 2015 میں 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو ستمبر 2015 تک تک 15.2 ارب ڈالر تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف مشن نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں پروگرام کارکردگی کا خیرمقدم کیا۔ جبکہ دسمبر تک آخر تک سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اور بجٹ خسارے کے ہدف کو حاصل کر لیا گیا۔
اس کے علاوہ توانائی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سماجی شعبے میں تعین کردہ اخراجات کے ہدف کو حاصل کر لیا گیا۔
اس کے علاوہ دوسری سہ ماہی میں زیادہ ٹیکس محصولات کی وجہ سے پہلی سہ ماہی میں ہدف سے کم ٹیکس محصولات کے شارٹ فال کو کم کرنے میں مدد ملی جس میں مقررہ کردہ ہدف کو معمولی کمی سے حاصل نہیں کیا جا سکا۔







