تحفظِ نسواں بل پر مشاورت کے لیے کمیٹی قائم

کمیٹی نے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد اپنی سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کر دے گی
،تصویر کا کیپشنکمیٹی نے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد اپنی سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کر دے گی

مذہبی حلقوں کی جانب سے تحفظِ نسواں بل کی مخالفت کے بعد حکومتِ پنجاب نے علما سے مشاورت کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے خصوصی نگراں یونٹ برائے امن و امان کے سینیئر رکن سلمان صوفی کے مطابق یہ کمیٹ تمام مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور سرکاری افسران سے اس قانون پر رائے لے کر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔

اس مشاورتی کمیٹی کے ارکان میں رانا ثنا اللہ اور سلمان صوفی کے علاوہ حکومت پنجاب کے مشیر خواجہ احمد حسان بھی شامل ہیں جو کمیٹی کے شریک چیئرمین بھی ہوں گے۔

لاہور سے صحافی عبدالناصرخان کے مطابق کمیٹی کے سیکریٹری سلمان صوفی کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل اور علما سے مشاورت کا مقصد خواتین پر تشدد کو روکنے کے لیے بنائےگئے ایکٹ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمیٹی نے مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد اپنی سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کر دے گی۔

انھوں نے واضح کیا کہ یہ قانون رات کے اندھیرے میں نہیں بنایا گیا بلکہ منتخب عوامی نمائندوں نے دو سال تک اس پر سوچ بچار کی جس کے بعد خواتین کے تحفظ کے لیے یہ قانون سازی کی گئی۔

تحفظ نسواں ایکٹ کے بارے میں مشاورتی کمیٹی کے قیام سے ایک روز وزیراعلٰی پنجاب شہبازشریف نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اس قانون کے بارے میں ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

جے یو آئی کے ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعلیٰ پنجاب پر واضح کیا کہ وہ نئے ایکٹ کی مکمل تنسیخ چاہتے ہیں تاہم انھوں نے وزیراعلٰی کو بتایاکہ وہ علماء سے مشاورت کے بعد ان کی جانب سے ترامیم کی پیشکش کا جواب دیں گے۔

تحفظ نسواں ایکٹ کے خلاف لاہور میں جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ اور حافظ طاہر اشرفی کی پاکستان علماء کونسل نے بھی اتوار کو لاہور میں الگ الگ کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔

مولانا سمیع الحق کی صدارت میں منعقدہ کنونشن کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحفظ نسواں بل کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ ہونے کا خدشہ ہے اس لیے اسے کسی صورت قبل نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ وہ تحفظ حقوق نسواں بل کے خلاف نہیں بلکہ انھیں چند شقوں پر تحفظات ہیں جنھیں دور کیا جائے تو نیا قانون ان کے لیے قابل قبول ہے۔

حافظ طاہر اشرفی نے تحفظ نسواں ایکٹ پر تنقید کرنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ نئے قانون پر فتویٰ لگانے والے پہلے مسودہ پڑھ لیں۔