شبقدر میں خودکش دھماکہ، ہلاکتیں 16 ہوگئیں

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی پولیس کے مطابق شبقدر میں خودکش دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
چارسدہ کے پولیس کے ضلعی پولیس سربراہ سہیل خالد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ پیر کی صبح شبقدر کی کچہری کی حدود میں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک مبینہ خودکش حملہ آور کچہری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر اس نے خود کو ایک دھماکے سے اڑا دیا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آور نے دھماکہ کرنے سے پہلے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے بھی فائرنگ کی گئی۔
سرکاری ریڈیو نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے 16 افراد میں تین پولیس اہلکار، چھ خواتین، دو بچے اور پانچ مرد شامل ہیں۔
زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جس سے تین گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔
اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بم ڈسپوزل سکواڈ حکام کا کہنا ہے کہ کہ دھماکے میں چھ سے آٹھ کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
ادھر تحریکِ طالبان کے گروپ جماعت الاحرار کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔
جماعت کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت پر عمل درآمد کا ردعمل ہے۔
خیال رہے کہ شبقدر ضلع چارسدہ کی ایک تحصیل ہے جس کی سرحدیں قبائلی علاقے مہمند ایجنسی سے ملتی ہیں۔اس علاقے میں پہلے بھی خودکش اور بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔
چند سال پہلے تک اس علاقے میں حکومتی عملداری کمزور سمجھی جاتی تھی تاہم سکیورٹی فورسز کے آپریشنوں کے بعد یہاں مکمل امن بحال کر دیا گیا تھا۔
قبائلی علاقے سے متصل ہونے کی وجہ سے اس تحصیل میں تعلیمی ادارے بھی بڑے پیمانے پر شدت پسندوں کے حملوں کے زد میں رہے ہیں۔







