چارسدہ:سرکاری سکول کی عمارت دھماکے سے تباہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے قبائلی علاقے کے سرحد کے قریب دھماکے سے ایک سرکاری سکول کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب مہمند ایجنسی کے سرحد پر واقع ضلع چارسدہ کے دور افتادہ علاقے کودئی میں ہوا۔
تھانہ سرو کے ایک اہلکار یونس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد نے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کی عمارت میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے سکول کے دو کمرے تباہ ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے سے دیگر کمروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
تاحال کسی گروپ کی جانب سے سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی اس علاقے میں شدت پسندوں کی طرف سے سکولوں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں جس میں 20 کے قریب سرکاری سکول تباہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ بیشتر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ عسکریت پسند مہمند ایجنسی کی سرحد عبور کر کے یہاں حملے کرتے ہیں اور پھر واپس بھاگ جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ مہمند ایجنسی اور ضلع چارسدہ کے سرحدی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے سرکاری عمارتوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کے بعد تعلیمی اداروں پر حملوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوگئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب کچھ عرصہ سے مہمند ایجنسی میں ایک مرتبہ پھر طالبان مخالف لشکروں، پولیو کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں میں حملوں میں تیزی آئی ہے۔
ان میں سے بعض کاروائیوں کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے قبول کی ہے۔







