پٹھان کوٹ حملہ: انکوائری کےلیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شمائلہ جعفری
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب حکومت نے بھارت میں پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ہونے والے حملے کی انکوائری کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ یہ پانچ رکنی ٹیم محکمہ انسداد دہشتگردی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے حکام پر مشتمل ہے۔
انیس فروری کو گجرانوالہ کے انسدادِ دہشتگردی کے تھانے میں پٹھان کوٹ میں حملے کے واقعے کی ایف آئی آر ایک کالعدم تنظیم کے نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی تھی۔
پنجاب کے محکمۂ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پنجاب کے انسدادِ دہشتگردی فورس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل محمد طاہر رائے اس ٹیم کے کنوینر ہوں گے۔ سول انٹیلیجنس ایجنسی آئی بی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عظیم ارشد، انٹرسروسز انٹلیجنس ایجنسی کے لیفٹیننٹ کرنل تنویر احمد، ملٹری اینٹلیجنس کے لیفٹیننٹ کرنل عرفان مرزا اور محکمۂ انسداد دہشتگردی گجرانوالہ کے انسپکٹر شاہد تنویر کو اس کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم گجرانوالہ میں انیس فروری کو درج کی گئی ایف آئی آر کی تحقیقات کرے گی۔
یہ ایف آئی آر وفاقی وزارت داخلہ کے ڈپٹی سیکرٹری اعتزازالدین نے درج کروائی تھی جس میں قتل اقدامِ قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔
دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ ائیربیس پر ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ کہ چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حملے کے بعد بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں موجود کالعدم جیش محمد اور کے سربراہ مسعود اظہرحملے میں ملوث ہیں اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان ان کے خلاف کاروائی کرے۔
ایف آئی آر کے اندراج کے بعد محکمۂ انسداد دہشتگردی اور پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنا اللہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پٹھان کوٹ حملے کے مقدمے کی تحقیات کے لیے ایک مشترکہ تحقیاتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے بعد ہی باضابطہ طور پر تفتیش کا آغاز ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب مشترکہ ٹیم کی تشکیل کے بعد توقع ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کی تحقیات کا جلد آغاز ہوجائے گا۔
پٹھان کوٹ آپریشن کے بارے میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل شیرو تھاپلیال نے کہا تھا کہ ’پٹھان کوٹ میں شامل تمام سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک لائحہ عمل تک نہ پہنچ پانے اور موثر طریقہ عمل پر متفق نہ ہونے کا نتیجہ تھا۔۔۔ایسی کھلی اور محدود جگہ پر جہاں عام شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ پہنچنے کا احتمال نہ ہونے کے برابر ہو، صرف پانچ یا چھ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے میں چار دن لگ جانا قابل قبول نہیں ہے۔‘







