پنجاب میں 50 سے 70 مدارس ’حساس‘

مدرسہ

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنپنجاب حکومت کا دعوی ہے کہ صوبے میں تیرہ ہزار آٹھ سو کے لگ بھگ مدرسوں کی رجسٹریشن اور ’جیو ٹیگنگ‘ کی جا چکی ہے

پنجاب میں حال ہی میں مکمل کی جانے والے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کے دوران 50 سے 70 کے قریب مدارس کو شدت پسندی کے تناظر میں حساس ترین قرار دے کر ان کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق ان 50 سے 70 مدارس کو مدرسوں کی درجہ بندی میں ’اے کیٹگری ‘ میں رکھا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے تحت ایک برس کے دوران صوبے میں 13800 کے لگ بھگ مدرسوں کی رجسٹریشن اور ’جیو ٹیگنگ‘ یا ان کے محل و وقوع کے بارے میں مکمل معلومات جمع کر لی گئی ہیں۔

قبل ازیں سندھ میں بھی مدارس کی جیو ٹیگنگ کے تحت کراچی میں 2122 اور حیدرآباد کے ساڑھے 15 سو کے قریب مدارس کی جیو ٹیگنگ مکمل کی گئی تھی۔ اس عمل کے دوران 167 مدارس کو سیل کر دیا گیا تھا۔

جیو ٹیگنگ کے لیے تمام تکنیکی وسائل اور مدد پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فراہم کر رہا ہے۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چئیرمین عمرسیف نے بتایا کہ ’اگر کسی مدرسے سے کوئی خطرہ ہے یا وہاں سے شدت پسندی کا کوئی واقعہ ہونے کے امکانات ہیں تو ایسے مدرسے کو اے کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔

جیو ٹیگنگ
،تصویر کا کیپشنجیو ٹیگنگ کے لیے تمام تکنیکی وسائل اور مدد پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فراہم کر رہا ہے

انھوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی الیکٹرونک نگرانی کی صلاحیت خاطر خواہ حد تک بڑھ چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف تحقیقات میں مدد ملتی ہے بلکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہونے سے پہلے روکا بھی جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی ادارے مدارس کے بارے میں اکھٹی کی گئی تمام معلومات یا ’ڈیٹا‘ کا بڑی توجہ اور گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور مشکوک یا خطرناک مدارس کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

ایک برس پہلے تک پنجاب حکومت کے کسی بھی ادارے کے پاس مدارس سےمتعلق مکمل معلومات نہیں تھیں۔ لیکن مدارس کی رجسٹریشن اور جیو ٹیگنگ کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ تمام ڈیٹا حاصل کر چکے ہیں۔

’پولیس والوں نے ہم سے مدرسے کے طلبہ، نظام تعلیم اور انتظامیہ کے بارے میں معلومات لی ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’پولیس والوں نے ہم سے مدرسے کے طلبہ، نظام تعلیم اور انتظامیہ کے بارے میں معلومات لی ہیں‘

لاہور میں ایک مدرسے کے رجسڑار محمد اکرم کاشمیری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سارے عمل کے بارے میں کہا کہ ’پولیس والوں نے ہم سے مدرسے کے طلبہ، نظام تعلیم اور انتظامیہ کے بارے میں معلومات لی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انتظامی طور پر اگر حکومت کوئی تعاون چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا ’ہمارا مذہب کہتا ہے کہ اگرحکومت کافر بھی ہو اور وہ تمھارے دینی معاملات میں مداخلت نہ کرے تو اس کی بھی اطاعت کرو۔‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ وہ کسی کو اپنے دین میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد جب دہشتگردی کے خلاف لائحہ عمل بنا تو زیادہ سختی سے مدارس کی رجسڑیشن کا عمل شروع کیا گیا اور اس مقصد کے لیے ایک ایپ بنائی گئی تا کہ انھیں جیو ٹیگ کیا جا سکے۔ لاہور ہی میں جامعہ اشرفیہ کی رجسٹریشن کرنے والے ایس ایچ او خالد پرویز نے بتایا کہ ’ہم نے پہلے اپنے علاقے کے مدارس کے ایگزیکٹو بورڈز سے رابطہ کیا اور انھیں سمجھایا کہ ہم ملک کی بہتری اور موجودہ حالات کی نزاکت کے باعث جیو ٹیگنگ کر رہے ہیں۔ پھر ہم نے مدرسوں کی تصاویر جعرافیائی محل وقوع، مسلک، مہتم کی مکمل تفصیلات، طلبہ کے کوائف اور مالی وسائل کی معلومات لے کر انھیں اپ لوڈ کیا۔‘

خالد پرویز نے بتایا کہ وہ اپنے علاقے کے مدارس کو گاہے بگاہے چیک کرتے رہتے ہیں۔ یہاں سرچ بھی کرتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر بھی رکھتے ہیں۔

مدرسوں کے بعد صوبے میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کی جیو ٹیگنگ کا عمل شروع کیا گیا ہے جو نسبتًا سست روی کا شکار ہے۔

لاہور کے سگیاں پل کے آس پاس سینکڑوں افغان گھرانے آباد ہیں۔ حاجی حاصل خان بھی ان میں سے ایک ہیں۔ یہ لوگ اسی کی دہائی میں افغانستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ انھیں پناہ تو کسی اور علاقے میں دی گئی تھی لیکن اس وقت وہ لاہور میں موجود ہیں۔

حاجی حاصل خان کہتے ہیں ’یہاں پر زیادہ تر لوگ قندوز کے ہیں۔ہم پہلے آئے تو میرن شاہ تھے پھر کچہ عرصہ کوہاٹ رہے اور کئی برس سے لاہور میں آباد ہیں۔آج کل حکومتی اہلکار ہمارے گھروں میں آکر معلومات اور انگوٹھوں کے نشان لے رہے ہیں۔ اب سے پہلے ایسی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔‘

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خیال ہے کہ اس وقت صوبے میں افغان مہاجرین کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہے۔ اور ان میں سے ایک تہائی ایسے ہیں جو ان جگہوں پر موجود ہی نہیں جہاں کا انھیں پرمٹ دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان مہاجرین کے ٹھکانوں کو تلاش کرنے اور جیو ٹیگ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔

جیو ٹیگنگ کے دوران بہت سے غیرقانونی مہاجرین کو واپس بھی بھیجا گیا ہے جبکہ سینکڑوں کو نئے پرمٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

تاہم پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین عمر سیف کہتے ہیں کہ پنجاب میں ہونے والی پیشرفت کے باوجود ایسے منصوبوں سے حقیقی فائدہ تب ہوگا جب تمام صوبوں کا ڈیٹا آن لائن دستیاب ہو۔