’مدارس کی بیرونی فنڈنگ کا طریقۂ کار وضع کیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ اُس نے دینی مدارس کی ازسرنو رجسٹریشن کرنے اور انہیں بیرون ملک سے ملنے والی مالی امداد کی نگرانی کا طریقہ کار وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ’حکومت مدرسوں کو ملنے والی بیرونی امداد کا طریقۂ کار وضع کرے گی جس سے مدارس کو اتفاق ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ تنظیمات المدارس کے نمائندہ وفود کی ملاقات سٹیٹ بینک کے اہلکاروں سے ہو گی تاکہ بیرونی فنڈنگ کا طریقۂ کار طے کرنے کے ساتھ ساتھ انڈر ہینڈ (بغیر اندراج کے) منتقلیِ رقم کو روکنے کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مدراس کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ سب شفاف طریقے سے ہو سکے۔ اس کے علاوہ دینی مدارس قانون کے مطابق آڈٹ رپورٹ تیار کریں گے۔
چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ مدارس کا نصاب طے کرنے کے لیے تنظیمات المدارس کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے گی جو جدید نصاب تیار کرے گی، اور اِس کو صرف مدارس تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ پوری تعلیم پر محیط کیا جائے گا۔
وزیرِ داخلہ نے مزید بتایا کہ مدارس کا اندراج کیا جائے گا اور اس عمل کو آسان اور یقینی بنانے کے لیے مدارس کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو جامع رجسٹریشن فارم تیار کرے گی۔
چوہدری نثار نے بتایا کہ مساجد میں خطبات کے دوران فرقہ واریت کو ہوا نہ دینے اور نفرت انگیز تقاریر پر پابندی عائد کی جائے گی۔
ان کے مطابق اس سب عمل کی پڑتال کرنے کے لیے دو کمیٹیاں بنیں گی۔ کئی مدرسوں پر صوبوں میں چھاپے پڑ رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ مل کر پالیسی بنائیں گے اور مدرسوں پر بلا وجہ عدم ثبوت پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اس کی حتمی شکل دس تاریخ کے بعد سامنے آئے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







