’افغانستان کے مفاہمتی عمل کا روڈ میپ تیار

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں مفاہمت اور قیام امن کے لیے پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ نے ایک روڈ میپ اپنایا ہے جس کی مدد سے اس عمل کے مراحل اور اقدامات شامل ہیں۔
سنیچر کو اسلام آباد میں افغانستان میں امن کے قیام اور اعتماد سازی کے لیے افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے چار ملکی رابطہ گروپ کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔
بعدازاں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق چار ملکی گروپ نے افغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان گروہوں کے درمیان جلد ازجلد براہ راست مذاکرات کی راہ تلاش کرنے پر غور کیا۔
چار ملکی رابطہ گروپ نےاگلی ملاقات کے لیے 23 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے یہ ملاقات کابل میں ہوگی۔
اجلاس میں میزبانی کے فرائض پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ادا کیے۔ افغانستان کی جانب سے نائب وزیرِ خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کی۔
امریکہ کی جانب سےپاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ اولسن شریک تھے جبکہ چین کی نمائندگی افغانستان کے لیے چین کے نمائندہ خصوصی ڈنگ زن جن نے کی۔
چاروں ممالک کے نمائندوں نے مذاکرات کے گذشتہ دو ادوار کا جائزہ لیا۔ بات چیت میں اس پر زور دیا گیا کہ مفاہمتی عمل کا مقصد سیاسی تصفیہ ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں تشدد کا خاتمہ ہو اور دیرپا امن قائم ہو سکے۔
چار ملکی رابطہ گروپ نےافغان حکومت اور طالبان گروہوں کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رابطہ گروہ کے اراکین نے طالبان گروہوں سے کہا کہ وہ امن مذاکرات میں شریک ہوں۔
اس سے قبل مذاکرات کے آغاز پر پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان افغان مفاہتی عمل کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے تمام فریقین کا پر عزم ہونا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور کے مطابق اجلاس طالبان کے ساتھ بات چیت پر زور دے گا اور مذاکرا ت کی کامیابی کے لیے پر تشدد کارروائیو ں کو روکنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ مفاہمتی عمل کے ذریعے افغانستان میں پر تشدد واقعات کا خاتمہ ہو گا۔
افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کے لیے روڈ میپ بنانے کی تجویز چین نے دی تھی۔
اس سے قبل اس گروپ کا پہلا اجلاس اسلام آباد ہی میں ہوا تھا جبکہ دوسرا اجلاس افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوا تھا۔
گیارہ جنوری کو اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہو اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔







