’افغان مصالحتی عمل کو یقینی بنایا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہر فریق افغانستان میں قیام امن اور اعتماد سازی کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
چاروں ممالک نے اپنی ذمہ داریوں کا اعادہ اسلام آباد میں چار ملکی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کیا۔
افغان طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی حکمت عملی پر بات چیت کے لیے مشترکہ اجلاس پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
افغان طالبان کو اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں شامل نہیں کیا گیا۔
ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق چار ممالک نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جن باتوں پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں اتفاق ہوا تھا ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
بیان کے مطابق ’ 9 دسمبر کو ہونے والے سہ فریقی اور چہار فریقی مذاکرات کو آگے بڑھاتے ہوئے چاروں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کی ان کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی جن کی قیادت افغانستان کے ہاتھ میں ہے تا کہ افغانستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم کیا جا سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مذاکرات میں شریک چاروں ممالک نے افغانستان میں جاری تنازعے کے خاتمے پر اتفاق کیا جس کی وجہ سے افغان عوام کو بےمعنی تشدد کا سامنا ہے اور پورے خطے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔‘
اجلاس کے شرکاء نے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تا کہ قیام امن کی ان کوششوں کو فروغ ملے جن کا مقصد افغانستان میں اتحاد، اس کی خود مختاری اور اس کی سالمیت کا تحفظ کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بیان کے مطابق اجلاس میں قیام امن اور مصالحت کے امکانات اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا گیا تا کہ خطے میں تشدد پر قابو پایا جا سکے اور افغانستان میں قیام امن کو ممکن بنایا جا سکے۔
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہو اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
اجلاس کے آغاز میں سرتاج عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔
سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش کی گئی ہے اور طالبان گروہوں کی جانب سے اس پیشکش کے جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ہو گا۔
’مذاکرات کے لیے تیار گروہ اور وہ گروہ جو تیار نہیں ہیں کے بارے میں تفریق اور مذاکرات کے لیے تیار نہ ہونے والے گروہوں کو کیسے نمٹا جائے کے بارے میں اس وقت فیصلہ کیا جائے جب مذاکرات پر رضامند کرنے کی تمام تر کوششیں کی جا چکی ہوں۔‘







