’مذاکراتی پیشکش سے قبل طالبان میں تفریق نہ کی جائے‘

مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں: سرتاج عزیز

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں: سرتاج عزیز

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان میں مصالحتی عمل غیر مشروط ہو اور اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

افغان طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے چار ملکی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو اسلام آباد میں شروع ہوا۔

افغان طالبان اسلام آباد میں شروع ہونے والی بات چیت میں شامل نہیں ہیں۔

اس کے آغاز میں سرتاج عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش کی گئی ہے اور طالبان گروہوں کی جانب سے اس پیشکش کے جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ہو گا۔

’مذاکرات کے لیے تیار گروہ اور وہ گروہ جو تیار نہیں ہیں کے بارے میں تفریق اور مذاکرات کے لیے تیار نہ ہونے والے گروہوں کو کیسے نمٹا جائے کے بارے میں اس وقت فیصلہ کیا جائے جب مذاکرات پر رضامند کرنے کی تمام تر کوششیں کی جا چکی ہوں۔‘

کانفرنس میں طالبان شرکت نہیں کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکانفرنس میں طالبان شرکت نہیں کر رہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں افغانستان میں مذاکرات کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اور مذاکرات کو بامعنی طریقے سے آگے بڑھائے جانے کے حوالے سے روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔

اس اجلاس کا سب سے پہلا اور اہم مقصد ہے مصالحتی عمل کی سمت کے تعین کے علاوہ اس کےاہداف کا تعین کرنا تاکہ حقیقت پر مبنی ٹائم فریم طے کیا جا سکے۔

’اہم ہے کہ حقیقت پر مبنی اندازہ لگایا جائے اور مصالحتی عمل میں ممکنہ رکاوٹوں کو جانا جائے تاکہ عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘

خارجہ امور کے مشیر نے کہا کہ مصالحتی عمل کا اہم ہدف ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے کہ طالبان گروہ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں اور سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مسلح جدوجہد کو ترک کریں۔

’اس لیے یہ ضروری ہے کہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔‘

سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ مصالحتی عمل کے لیے ضروری ہے کہ اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب آج چار فریقی کمیٹی کی ملاقات کے بعد امریکی سفیر اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان رچڑ اولسن نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سےملاقات کی۔

فوج کے شبعہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں افغانستان اور خطے کی سیکورٹی کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر امریکی سفیر نے انتہاسپندی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔