آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فیصلے سے فوج بطور ادارہ مستحکم ہوگا۔

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سابق صدر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہاگیا ہے کہ آرمی چیف کے اس فیصلے کے بعد فو ج بطور ادارہ مستحکم ہوگی۔

واضح رہے کہ آصف علی زرداری نے بطور صدر اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی تھی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا فیصلہ ایک سچے سپاہی کی طرح کیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک اچھی مثال قائم ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے جو اپنی صلاحیتوں سے چلتا ہے البتہ شخصیات کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور پڑتا ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا تھا کہ حکومت جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع لینے پر مجبور نہیں کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع ’ناگزیر‘ ہوئی تو پھر حکومت طے شدہ طریقہ کار کے تحت کام کرے گی۔

اقبال ظفر جھگڑا کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے فوج میں ایک شاندار کریئر گزارا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لینا چاہتے۔