’دہشت گردی،انتہا پسندی کے خلاف مل کر کام کریں گے‘

پاکستان کے وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی ملاقات سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہوئی

،تصویر کا ذریعہPM HOUSE

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی ملاقات سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہوئی

سعودی عرب کے شہر ریاض میں وزیر اعظم نواز شریف اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں ملک ’دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ کے مشترکہ دشمن کے خلاف مل کر کام کریں گے۔

ذرائع ابلاغ کو جاری ہونے والے اس دو صفحات پر مشتمل بیان میں یہ وضحات نہیں کی گئی کہ دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے تعاون یا ’مل کر کام کرنے‘ کی نوعیت کیا ہو گی اور کیا اس میں دوسرے اسلامی ممالک میں جاری کارروائیوں میں بھی اشتراک ہو گا یا نہیں۔

یاد رہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان کی فوج کے سربراہ راحیل شریف سعودی حکام سے بات چیت کے لیے ریاض پہنچے ہیں اور اس کے بعد وہ ایران کا دورہ کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

بیان کے مطابق سعودی فرما روا سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے عوام کی سعودی عرب کے لیے نیک تمناؤں کا اعتراف کیا اور انھیں سراہا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق میاں نواز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے رکن ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملکوں کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کے لیے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار رہا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات ہوئی۔

پاکستان ٹیلی وژن کے مطابق اس ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ سعودی کابینہ کے ارکان اور دیگر حکام نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔

نواز شریف اور شاہ سلمان

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشننواز شریف چاہتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران اپنے باہمی اختلافات کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کی خاطر پرامن طریقے سے حل کریں

پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق اپنے اس دورے کے دوران وہ منگل 19 جنوری کو ایران بھی جائیں گے اور دونوں ممالک کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح کا ایک وفد بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہوگا۔

اس سے قبل پاکستان نے کہا تھا وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہنا چاہتا ہے اور وقت آنے پر اپنا کردار ادا کرے گا۔

اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں دفترِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی گہرے برادرانہ تعلقات ہیں اور اسے ان دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف چاہتے ہیں کہ دونوں ملک اپنے باہمی اختلافات کو اس مشکل وقت میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کی خاطر پرامن طریقے سے حل کریں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے رکن ممالک میں برادرانہ تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔