’عرب و عجم کشیدگی میں وقت آنے پر ثالثی کریں گے‘

پاکستان کی خواہیش ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم ہے: سرتاج عزیز

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی خواہیش ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم ہے: سرتاج عزیز

پاکستان کا کہنا ہے کہ ایران اور سعودی کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان خاص وقت پر اپنا کردار ادار کرے گا جبکہ پاکستان حکام سے ملاقات کے لیے سعودی عرب کے وزیر دفاع اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان السعود اتوار کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

سینچر کو وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امُور سرتاج عزیز نے لاہور میں صحافیوں کے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں مسلم امہ کو اپنا کردار ادار کرنا چاہیے، نہیں تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا فائدہ دہشت گرد اور شدت پسند اُٹھا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان اس تناؤ میں احتیاط برتنی چاہیے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ’وہاں جو تفرقہ بڑھ رہا ہے اس کو شیعہ سنّی کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہاں (پاکستان میں) اس کا اثر نہیں ہونا چاہیے کہ ایک دوسرے کے خلاف جلوس نکالے جائیں ہمیں بہت سوچ سمجھ کر اور احتیاط سے آگے بڑھنا ہے اس کشیدگی ہوا نہیں دینی چاہیے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی پر پاکستان نے کہا کہ وہ اس تناظر میں عدم مداخلت کے اصول پر کار بند رہے گا۔

یاد رہے کہ اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے گذشتہ روز پاکستان کا مختصر دورہ کیا تھا ہے۔سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے کہا تھا کہ موجودہ مشکل حالات میں اختلافات اور مسائل کا پرامن طریقے سے حل کیا جانا امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کے لیے اپنے مفادات کا تحفظ ضروری ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ایک سائیڈ کہہ رہی ہے کہ آپ ہمارا ساتھ دیں اور ہم کہیں ہم درمیان میں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انکار کر رہے ہیں۔ ایک طرف کشیدگی بڑھ رہی ہے تو ہم وقت آنے پر ہی ثالثی میں اپنا کردار ادار کریں گے۔‘

دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر دفاع اتوار کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

سعودی وزیر دفاع ایک ایسے موقع پر پاکستان کا دورے کر رہے ہیں جب ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی پر پاکستان نے کہا کہ وہ اس تناظر میں عدم مداخلت کے اصول پر کاربند رہے گا۔

سعودی وزیر دفاع شاہ سلمان کے بیٹے ہیں اور ریاستی معاملات میں اُن کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسعودی وزیر دفاع شاہ سلمان کے بیٹے ہیں اور ریاستی معاملات میں اُن کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے

یاد رہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف سعودی قیادت میں تشکیل دی گئی اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج میں پاکستان شامل ہے لیکن ایران اسلامی ممالک کی فوج کا حصہ نہیں ہے۔

سعودی وزیر دفاع ملک کے بادشاہ شاہ سلمان کے بیٹے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ریاستی معاملات میں اُن کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

اس سے قبل گذشتہ سال مارچ میں سعودی عرب کی افواج نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کیا تھا جس میں سعودی عرب نے پاکستان سے مدد طلب کی تھی۔

پاکستان نے یمن میں فوج بھجوانا کے معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث کروائی تھی جس کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں اس کے دفاع کا وعدہ کیا ہے تاہم کہا تھا کہ وہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔