عرب و عجم کی لڑائی میں پھنسا پاکستان

ایرانی انقلاب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران میں انقلاب کے بعد پاکستان مشکل میں پڑ گیا تھا کہ وہ کس کا ساتھ دے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

جب تک معاملہ اسرائیل بمقابلہ عرب تھا تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے دوست دشمن کی تمیز بہت آسان تھی۔ ایک سٹینڈرڈ پالیسی اپنا لی گئی تھی کہ عربوں کا ہر فورم پر ساتھ دینا ہے اور اسرائیل کی ہر فورم پر مخالفت کرنی ہے۔ مگر خارجہ پالیسی کی یہ آسانی انیس سو نواسی میں ختم ہو گئی جب ایران میں انقلاب آ گیا اور خلیج کی جمی جمائی بساط اتھل پتھل ہوگئی۔ پاکستان سمیت کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایرانی انقلاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھےگا۔ چنانچہ غیر یقینی حالات کے سبب پاکستان اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سٹرٹیجک اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب آتے چلے گئے۔

لیکن ایران کی چونکہ پاکستانی بلوچستان کے ساتھ نو سو نو کلو میٹر طویل سرحد لگتی ہے اور ایران اور پاکستان کے مشترکہ ہمسائے افغانستان میں انقلابِ ثور بھی آ چکا تھا۔ لہذا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے عرب و عجم معاملات میں ایک تعلقاتی توازن قائم رکھنا علاقائی، نظریاتی، سیاسی، ثقافتی و معاشی مجبوری بن گئی تھی۔

جب ستمبر انیس سو اسی میں عراق نے ایران پر حملہ کیا اور سعودی عرب اور کویت سمیت خلیجی ممالک نے کھل کے صدام حسین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تو پاکستان کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا کہ وہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ پاکستان کی مشرقی سرحد پر بھارت کی فوجی موجودگی مسلسل تھی۔ مغربی سرحد پر افغانستان میں سوویت یونین آن بیٹھا تھا۔جنوب مغرب میں پاکستان کی پیٹھ سے لگا ایران عراق سے الجھا ہوا تھا اور لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار کے لیے مقیم تھے۔خود پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بستی ہے۔

نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی صورتِ حال میں جنرل ضیا الحق نے اپنے لیے جو راستہ چنا وہ اس دور کے حالات میں پاکستانی مفادات کے حساب سے بہتر راستہ تھا۔

ایران عراق جنگ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران عراق جنگ کے دوران پاکستان نے نے تجویز دی کہ صدر ضیا الحق دو مسلمان ملکوں کے درمیان جنگ بند کرانے کے لیے ’رضاکارانہ‘ خیر سگالی امن مشن لے کر تہران اور بغداد جانے کو تیار ہیں

عراق ایران جنگ شروع ہوتے ہی نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اسلامی سربراہ کانفرنس کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا اور پاکستانی دفترِ خارجہ نے تجویز دی کہ صدر ضیا الحق دو مسلمان ملکوں کے درمیان جنگ بند کرانے کے لیے ’رضاکارانہ‘ خیر سگالی امن مشن لے کر تہران اور بغداد جانے کو تیار ہیں۔ اس تجویز کو سراہا گیا اور پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات بھی خیرسگالی مشن میں شامل ہوگئے۔گویا پاکستان نے اپنے لیے ایک تعمیری کام نکال لیا۔

جب جنوری انیس سو اکیاسی میں طائف میں تیسری اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی تو ایران نے بائیکاٹ کیا۔ پاکستان نے پیش کش کی کہ وہ ایران کو مصالحت پر آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔چنانچہ گنی کے صدر احمد سیکوطورے کی قیادت میں چھ رکنی اسلامی امہ امن کمیٹی قائم ہوئی جس میں گیمبیا، ترکی، پی ایل او، بنگلہ دیش اور پاکستان کے سربراہان شامل ہوئے۔ اس کمیٹی نے آٹھ برس کے دوران تہران اور بغداد کے کئی چکر لگائے اور باقی مسلمان ممالک نے دو بھائیوں کے مابین قیام ِ امن کے لیے امہ امن کمیٹی کی نیک نیت کوششوں کو بارہا سراہا۔ خدا خدا کرکے انیس سو اٹھاسی میں اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی اور پاکستان نے سکھ کا سانس لیا۔

مگر دو سال بعد پاکستان پھر مشکل میں پھنس گیا جب اگست انیس سو نوے میں عراق نے کویت پر قبضہ کر لیا۔ سعودی عرب کی بہت خواہش تھی کہ مشرقی علاقے میں انیس سو اناسی سے مقیم پاکستانی فوجی دستوں کو امریکی قیادت میں بننے والے صدام دشمن اتحاد کا حصہ بنایا جائے۔ مگر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ کے منھ سے صدام حسین کے لیے تعریفی کلمات غلط وقت پر گر گئے۔ چنانچہ خلیجی ممالک اور پاکستان کے درمیان بدمزگی پیدا ہوگئی۔ اس سفارتی نقصان کے ازالے کے لیے نواز شریف حکومت نے فروری انیس سو اکیانوے میں کچھ دستے علامتی تعاون و یکجہتی کی خاطر سعودی عرب بھیجے تاکہ عرب اتحادیوں کا دل مزید میلا نہ ہو۔

خوش قسمتی سے دو ہزار تین میں عراق پر امریکی اتحاد کے حملے کے دوران پاکستان عرب دباؤ سے محفوظ رہا کیونکہ پاکستان کا موقف تھا کہ وہ تو خود دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں الجھا پڑا ہے۔

یمن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران اور سعودی عرب دونوں ایک دوسرے پر یمن کے خلاف جارحیت کا الزام لگاتے ہیں

مگر گذشتہ برس مارچ میں جب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن پر حملہ کیا تو پاکستان پر اس جنگ میں شمولیت کے لیے براہِ راست دباؤ ڈالا گیا۔ پاکستان کا نام سعودی عرب نے یکطرفہ طور پر اپنے اتحادیوں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا۔ لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بدلے ہوئے علاقائی و سٹرٹیجک حالات میں براہِ راست انکار کر کے خلیجی دوستوں کی نگاہوں میں برا بننے کے بجائے اپنی بلا قومی اسمبلی کے طویلے پر ڈال دی اور قومی اسمبلی نے یمن کے بحران میں غیر جانبداری برتنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ایسی ہی حکمتِ عملی سے پاکستان نے اب تک شام کے بحران میں بھی کام لیا ہے۔

البتہ نومبر میں جب سعودی عرب نے اچانک ایک چونتیس رکنی گرینڈ الائنز میں پاکستان کا نام اپنی طرف سے شامل کر دیا تو پاکستانی دفترِ خارجہ نے پہلے تو حیرت ظاہر کی لیکن پھر مروتاً ہاں کر دی تاکہ یمن کے معاملے پر پیدا ہونے والی سفارتی تلخی کسی حد تک زائل ہوسکے۔

اب ایک سرکردہ سعودی عالم شیخ نمر النمیر کی سزائے موت کے بعد ایران اور سعودی عرب کے علاقائی ملاکھڑے نے جو خطرناک رخ اختیار کیا ہے اس کے بعد سعودی عرب اور ایران ایک بار پھر ’عالمِ اسلام کے ایٹمی قلعے‘ پاکستان کی جانب دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ عادل الجبیر جمعہ کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف بھی آنا چاہیں گے۔

سعودی عالم شیخ نمر النمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسعودی عالم شیخ نمر النمیر کو موت کی سزا دیے جانے کے بعد ایران اور سعودی عرب میں دوبارہ تعلقات خراب ہو گئے ہیں

پاکستان نے اگرچہ عرب و عجم مناقشے میں کسی فریق کا آج تک کھل کے ساتھ نہیں دیا لیکن پاکستان کو اپنی اسلامی و علاقائی مروت کی یہ قیمت ادا کرنی پڑی کہ عرب و عجم پچھلے تیس پینتیس برس سے اپنی پراکسی لڑائی پاکستان میں لڑتے آ رہے ہیں۔ آج پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا جو تیزاب پھیلا پڑا ہے اس میں پاکستان کے دونوں روایتی مہربان بھی برابر کے شریک ہیں۔

اب پھر پاکستان کو عرب و عجم کے تنے رسے پر چلنے کا مرحلہ درپیش ہے۔ لڑکھڑانے کی صورت میں خود پاکستان کی اندرونی فرقہ ورانہ صورتِ حال ابتر ہونے سے نیشنل ایکشن پلان کا منہ ٹیڑھا ہوسکتا ہے۔

چنانچہ پاکستان کو دو فوری چیلنج درپیش ہیں۔ پہلا یہ کہ سعودی عرب اور ایران سے تعلقات کے ممکنہ بگاڑ کو کم سے کم رکھنا اور پراکسی وار کا جو ممکنہ اگلا دور پاکستان میں شروع ہونے والا ہے اسے روکنے کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات کرنا تاکہ کرائے پر خدمات بجا لانے کے عادی مذہبی گروہوں کو مالی امداد و مراعات کی کشش کے سبب ایک بار پھر مقامی عفریت بننے سے ہر قیمت پر روکا جا سکے۔ بصورتِ دیگر ایران اور سعودی عرب میں بھلے براہِ راست تصادم ہو نہ ہو پاکستان میں ایرانیوں سے زیادہ ایرانی اور سعودیوں سے زیادہ سعودی بننے والے عناصر ضرور سماجی و فرقہ وارانہ آتش بازی رچانے کی کوشش کریں گے۔