یمن میں سعودی عرب نے سفارت خانے پر بمباری کی ہے، ایرانی الزام

،تصویر کا ذریعہAFP

ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صعنا میں اس کے سفارت خانے پر بمباری کی ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ صعنا میں سفارت خانے پر میزائل داغے گئے جس میں عملے کے متعدد ارکان زخمی ہو گئے ہیں۔

<link type="page"><caption> عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ: ویڈیو رپورٹ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/01/160105_saudi_iran_zzk" platform="highweb"/></link>

سعودی اتحاد کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے باغیوں کے میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا ہے اور باغی خالی سفارت خانوں کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یمنی دارالحکومت کے رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح سعودی اتحاد نے درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔

تاہم عینی شاہدین اور رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں سفارت خانے کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سفارت خانے کی عمارت کو ایسا کوئی نقصان نہیں ہوا جس کو دیکھا جا سکے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی سفارت خانہ مکمل طور پر فعال تھا کہ نہیں لیکن گذشتہ برس متعدد ممالک نے صعنا میں اپنے سفارت خانے خالی کر دیے تھے اور انھیں ساحلی شہر عدن میں منتقل کر دیا تھا۔

سعودی اتحاد کے ایک ترجمان جنرل احمد اسری نے کہا ہے کہ ایرانی دعوے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

سعودی عرب میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو موت کی سزا دینے کے بعد سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں جس میں سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں سے ایران سے اپنے سفارت تعلقات ختم کر دیے ہیں۔