قطر نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے

تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد کئی سعودی اتحادیوں نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty AFP

،تصویر کا کیپشنتہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کے بعد کئی سعودی اتحادیوں نے ایران سے سفارتی تعلقات توڑ دیے ہیں

مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کے ایک اور اتحادی ملک قطر نے بھی ایران سے سفارتی تعلقات توڑتے ہوئے اپنا سفیر واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں تازہ کشیدگی سعودی حکام کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت دیے جانے پر پیدا ہوئی ہے۔

<link type="page"><caption> ایران و سعودی عرب ’خطرناک ترین موڑ‘ پر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160104_saudi_iranian_tension_sq.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> سعودی اتحادیوں کا ایران کے خلاف سفارتی محاذ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/01/160104_iran_saudi_diplomatic_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایران اور سعودی عرب کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160106_john_kerry_iran_saudia_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

اس سے قبل کویت، بحرین، سوڈان اور جبوتی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کرچکے ہیں۔

ادھر ایران نے بھی سعودی عرب سے اپنے سفارتکار واپس بلالیے ہیں۔

دوسری جانب ایران اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عراق نے ثالثی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

عراقی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کو طول دیا جاتا رہا تو پورا خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعراقی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کو طول دیا جاتا رہا تو پورا خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے

عراقی وزیرخارجہ ابراہیم جعفری کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کو طول دیا جاتا رہا تو پورا خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ عراق ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اور اس کی سرحدی ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ ملتی ہیں۔

بدھ کو عراقی وزیرخارجہ نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ابراہیم جعفری نے شیعہ عالم شیخ نمر النمر کی سزائے موت کو ’جرم‘ قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود عراق ’ایران اور سعودی عرب کے درمیان تکلیف دہ کشیدگی کم کرنے‘ میں مدد کر سکتا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’ہم ابتدائی لمحات ہی سے کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں، تاکہ کسی ایسے سانحے سے بچا جا سکے جس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔‘

عراق کے دارلحکومت بغداد میں شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراق کے دارلحکومت بغداد میں شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کیا گیا

خیال رہے کہ عراق کی شیعہ قیادت نے ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے نبردآزما ہونے کے لیے ایران کی مدد پر انحصار کیا ہوا ہے۔

تاہم وہ سعودی عرب کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے 25 سال کے بعد بغداد میں اپنا بھیجا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے مغربی صوبے قطیف میں شیعہ عالم شیخ نمر النمر اور تین شیعہ افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی جبکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے 43 سنی جنگجوؤں کو بھی موت کی سزا دی گئی تھی۔