بلوچستان: انسانی حقوق، طلبہ قیادت کی بیرون ملک منتقلی کیوں؟

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرگرم انسانی حقوق اور طلبہ تنظیم کی قیادت بیرونِ ملک منتقل ہوگئی ہے۔ یہ قیادت یہاں مظاہروں اور بھوک ہڑتالوں کے علاوہ احتجاجی مارچوں میں متحرک رہی ہیں۔ اب وہ بیرون ملک کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کی لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنما عبدالقدیر بلوچ اور فرازنہ مجید پاکستان کے کئی شہروں میں بھوک ہڑتالیں اور لانگ مارچ کرنے کے بعد جہاں انھوں نے نیویارک تک لانگ مارچ کے لیے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو درخواست دی ہے۔
عبدالقدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کانگریس کے ارکان، سفارت کاروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں اپنا موقف پیش کرنے آئے ہیں۔
’بلوچستان میں ہمارے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کسی کو نہیں بخشا، چھوٹے معصوم بچوں تک کو گھروں میں گھس کر مارا ہے، وہاں کا چپہ چپہ خون آلود ہے۔‘

بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے فورسز کا آپریشن اور آزادی پسندوں کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں، اس دوران انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی بھی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا دعوٰی ہے کہ 2015 کے دوران صوبے بھر سے مزید 463 افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے اور 157 بلوچ افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ تاہم بلوچستان کے محکمہ داخلہ کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر129 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے 40 بلوچ تھے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی رہنما فرازنہ مجید بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے۔’پاکستان میں کوئی بھی ادارہ ہماری داد رسی نہیں کرتا جس کی وجہ سے بیرون ملک آ کر آواز اُٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ایک چھوٹے سے بچے کے ساتھ بھی آرمی کی رٹ ہے۔ اس صورت حال میں ریاست نے مجبور کیا ہے کہ ہم زیادہ متحرک ہوں۔‘
پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی چیئرسن زہرہ یوسف فرزانہ مجید کے موقف سے اتفاق نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایچ آر سی پی بلوچستان کے ایشوز پر آواز بلند کرتی رہی ہے لیکن جو حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کا ردِ عمل ہے وہ نہیں ملتا اور اس وجہ سے بلوچ کارکنوں کو ضرور مایوسی ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالقدیر بلوچ، فرزانہ مجید اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی رہنما بی بی گل سمیت درجن کے قریب لواحقین نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ بھی کیا۔ گذشتہ سال کیچ میں ایک مبینہ آپریشن کے دوران بی بی گل کے گھر کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔
امریکہ میں مقیم صحافی اور تجزیہ نگار ملک سراج کا کہنا ہے کہ حکومت اور بلوچ قوم پرستوں کی جنگ میں صحافی اور سماجی کارکن پس رہے ہیں۔ دونوں فریق اِن کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اس لیے صحافی اور سماجی کارکن اپنی جان بچانے کے لیے ملک چھوڑ کر بیرون ممالک سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
عبدالقدیر بلوچ اور فرزانہ مجید کے علاوہ بلوچستان میں طلبہ سیاست کی سرگرم کردار کریمہ بلوچ بھی کینڈا منتقل ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل بی ایس او آزاد کی مرکزی کونسل کے رکن لطیف جوہر پاکستان سے نکل چکے تھے، انھوں نے بی ایس او آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی تھی۔
کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو مانتی ہیں جو کچھ ان کے دوستوں، رضا جہانگیر، قمبر چاکر اور زاہد کے ساتھ ہوا یا بی ایس او آزاد کے دوسرے ارکان کے ساتھ کیا گیا وہ ان کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا، لیکن وہ پاکستان سے یہاں جان بچانے کی نیت سے نہیں بلکہ پاکستان ریاست بلوچستان میں کیا کچھ کر رہی ہے، یہ بتانے کے لیے آئی ہیں۔

بلوچ انسانی حقوق اور طلبہ تنظیموں کی نگاہیں امریکہ پر ہیں اور یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جبکہ پاکستان چین راہداری پر تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔
کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان چین راہداری سے بلوچستان کو ترقی دینے کے نام پر گمراہ کر رہا ہے حالانکہ 2400 کلومیٹر کی راہداری جہاں سے گزرتی ہے اس آبادی کو وہاں سے دربدر کیا جا رہا ہے۔ ’اڑھائی کروڑ آباد کار جو گوادر اور اس کے گردونواح میں آباد کرنے کا منصوبہ ہے اگر اتنی بڑی آبادی وہاں آباد ہوگی تو بلوچستان کی کی مقامی آبادی جو 80 لاکھ ہے اس کا کیا ہوگا؟‘
بلوچستان حکومت بیرون ملک مقیم آزادی پسند بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات میں مصروف ہے، جن میں بلوچ رپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی نے لچک کا بھی مظاہرہ کیا تھا۔گذشتہ سال بلوچستان کے وزرا نے نیویارک میں ریلی کا بھی انعقاد کیا تھا۔
صحافی ملک سراج کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت بیرون ممالک یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ بلوچستان اس کا اندرونی معاملہ ہے اور حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ 14اگست کے موقعے پر بھی بلوچستان سے کچھ وزرا کو نیویارک بلا کر یہی تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ بلوچ پاکستان حکومت سے خوش ہیں۔‘

’اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بلوچستان کے مسئلے پر اب تک کچھ نہیں کہا گیا۔ رپبلکنز نے بھی پاکستان سے اسامہ بن لادن کے برآمد ہونے کے بعد پاکستان کی رسوائی کے لیے بلوچوں کے مسئلے کو کانگریس میں اجاگر کیا، ورنہ میرا نہیں خیال کہ انھیں بلوچوں سے اتنی محبت ہے، اسی طرح یورپی ممالک بھی اس مسئلے میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔‘
اس سے قبل بھی سیاسی، سماجی کاکن اور سابق ارکان اسمبلی بیرون ملک پناہ لے چکے ہیں، جن میں صحافی ملک سراج بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ جو کارکناں امریکہ اور یورپ میں ہیں وہ زیادہ سرگرم نہیں، درحقیقت یہ ایک مختلف ملک اور کلچر ہے، یہاں روزگار اور رہائش کے مسائل ہوتے ہیں جب لوگو یہاں منتقل ہوتے ہیں تو وہ اپنے مقصد سے ہٹ کر فکرِ معاش میں پڑ جاتے ہیں۔







