’تین ہزار طالب علموں کی موجودگی کا ثبوت نہیں ملا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد پولیس کی جانب سے لال مسجد آپریشن سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق مسجد میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران وہاں تین ہزار طلبا اور طالبات کی موجودگی کے دعوے کے ثبوت نہیں ملے۔
جمعرات کو وفاقی دارالحکومت کی پولیس نےلال مسجد میں 2007 میں ہونے والے آپریشن سے متعلق ایک جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عدالعزیز کی اہلیہ اُم حسان کوئی بھی ثبوت دینے میں ناکام رہی ہیں جس میں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جس وقت سکیورٹی فورسز نے مذکورہ مسجد پر کارروائی کی تھی اس وقت تین ہزار سے زائد طلبا اور طالبات مسجد اور مدرسے میں موجود تھے۔
یہ رپورٹ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی طرف سے اس واقعہ سے متعلق عدالتی فیصلے کی روشنی میں جمع کروائی گئی ہے جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس آپریشن سے متعلق ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کی روشنی میں تفتیشی ٹیم نے اُم حسان کا بیان بھی ریکارڈ کیا لیکن وہ اپنے دعوے کے بارے میں کوئی تحریری ثبوت فراہم نہیں کر سکیں۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایک اور خاتون عائشہ احمد بھی فوجی آپریشن کے دوران وہاں پر موجود طلبا اور طالبات کی تعداد بتانے میں ناکام رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ام حسان خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی نگران تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے محکمہ اوقاف سے بھی وقوعہ کے وقت لال مسجد اور اس سے ملحقہ عمارت میں واقع خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ میں طلبا اور طالبات کی تعداد کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی تاہم اس بارے میں بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے۔
اس رپورٹ میں ان مقدمات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جو جولائی 2007 میں لال مسجد آپریشن شروع ہونے سے پہلے اور اس آپریشن کے بعد درج کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مولانا عبدالعزیز سمیت دیگر افراد کے خلاف 53 مقدمات درج کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 662 افراد کو رہا بھی کیا جبکہ لال مسجد آپریشن کے دوران 467 طالبات کو وہاں سے نکال کر اُن کے ورثا کے حوالے کیا گیا۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران 103افراد ہلاک ہوئے جن میں 89 شدت پسند، 11 افراد کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں جبکہ تین سویلین بھی اس آپریشن میں ہلاک ہوئے۔
لارجر بینچ بننے کی وجہ سے اس مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکی اور اس مقدمے کی سماعت فروری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
’لال مسجد شہدا فاؤنڈیشن` کے وکیل طارق اسد کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اس مقدمے کی جلد از جلد سماعت سے متعلق درخواست دائر کریں گے۔







